منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستانعلامہ اقبال کی انقلابی نظم ساقی نامہ

علامہ اقبال کی انقلابی نظم ساقی نامہ
ع

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) انیلہ شہزاد اپنے تبصرے میں علامہ اقبال کے شہرہ آفاق کلام ’’ساقی نامہ‘‘ کے انقلابی اور جاوداں جذبے کو نمایاں کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اقبال کو دوبارہ پڑھنا محض ادبی لذت نہیں بلکہ ایک ایسی آگ کے شعلوں کو ہوا دینا ہے جو مادیت کی گرد میں دب گئی تھی، مگر جس کی چنگاریاں اب بھی روح کے گہرے گوشوں میں سلگ رہی ہیں۔

ساقی نامہ میں اقبال ساقیِ ازل سے وہ شرابِ معرفت مانگتے ہیں جو ازل و ابد کے راز کھول دے۔ ان کے نزدیک فطرت ایک جیتی جاگتی وحدت ہے جو خالق کے منصوبے سے ہم آہنگ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ الہامی جام ان کے دل و دماغ کو بیدار کرے۔

شہزاد کے مطابق اقبال نوّے برس پہلے اعلان کر چکے تھے کہ مغربی طاقت کا فریب ٹوٹ رہا ہے، سرمایہ داری کا جادو زائل ہو چکا ہے، مشرق جاگ رہا ہے۔ مسلمان کو ان بتوں کو توڑنا ہوگا جو روایت پرستی، کھوکھلی تصوفیت اور عقلی موشگافیوں نے تراشے ہیں۔ اقبال کے نزدیک اصل احیا عشق و شوق اور خودی کی آگ میں ہے، جس کے بجھنے سے مسلمان محض راکھ کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

اقبال ایک ایسا بے قرار دل مانگتے ہیں جیسا علیؓ اور صدیقؓ کے پاس تھا، تاکہ امت کے رکے ہوئے جہاز کو پھر سے روانی مل سکے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی پکار نوجوانوں کے دلوں کو گرما دے اور قوم کو زندگی بخشے۔

ان کے فلسفے کے مرکز میں خودی ہے، جو سکون کو دھوکہ سمجھتی ہے اور پرواز کو زندگی کا اصل راز۔ یہ آگ دنیاوی الاؤ کی نہیں بلکہ ماورائی سرچشمے کی ہے، جو انسان کو نئے جہانوں کی تسخیر پر آمادہ کرتی ہے اور بالآخر اُسے ’’خودیِ مطلق‘‘ کے حضور لے جاتی ہے۔

شہزاد آخر میں اقبال کے عملی پیغام کو اجاگر کرتی ہیں: اب وقت سوچ کا نہیں، عمل کا ہے۔ امت کو اپنی تقدیر کا کنٹرول سنبھالنا ہے اور عشق کی آگ کو پھر روشن کرنا ہے۔

’’شرابِ کہن پھر پلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا‘‘

شہزاد کے مطابق اقبال کی صدا صرف یاد دہانی نہیں بلکہ بیداری کی پکار ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین