منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستانریکو ڈک منصوبے کی لاگت بڑھ کر 7.7 ارب ڈالر ہو گئی

ریکو ڈک منصوبے کی لاگت بڑھ کر 7.7 ارب ڈالر ہو گئی
ر

اسلام آباد(مشرق نامہ):پاکستان نے ریکو ڈک منصوبے کے پہلے مرحلے کی لاگت میں چھ ماہ کے اندر دوسری بار اضافہ کر دیا، جو اب بڑھ کر 7.7 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات قرضوں پر بڑھتے ہوئے اخراجات اور آئندہ قیمتوں کے جھٹکوں سے بچاؤ کے لیے رکھے گئے فنڈز ہیں۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اس نظرِثانی کی منظوری دی۔ اجلاس کی صدارت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔ ای سی سی نے منصوبے کے باضابطہ آغاز کے لیے معاہدوں پر دستخط کی بھی اجازت دی اور پاکستان ریلوے کے لیے 390 ملین ڈالر کے قرض کی حکومتی ضمانت منظور کی، جس سے 880 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھائی جائے گی تاکہ معدنیات کراچی بندرگاہ تک پہنچائی جا سکیں۔

ابتدائی تخمینہ ڈھائی سال قبل 4.3 ارب ڈالر تھا، جو اب 79 فیصد اضافے کے ساتھ 7.7 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ منصوبے کا دوسرا مرحلہ 2034 میں متوقع ہے جس پر مزید 3.3 ارب ڈالر لاگت آئے گی، یوں کل اخراجات تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔

ای سی سی کو بتایا گیا کہ لاگت میں اضافہ منصوبہ جاتی فنانسنگ، تعمیراتی مہنگائی، آپریشنل اخراجات اور قبل از 2025 اخراجات کی وجہ سے ہوا ہے۔ ریکو ڈک منصوبے میں پاکستان کے حصص وفاقی کمپنیوں (او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، جی ایچ پی ایل) اور بلوچستان حکومت کے پاس مجموعی طور پر 50 فیصد ہیں، جبکہ باقی 50 فیصد بیرک گولڈ کے پاس ہے جو منصوبے کا آپریٹر ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ منصوبہ بلوچستان کی معیشت سمیت پورے ملک کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ منصوبے سے روزگار کے مواقع، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور طویل المدتی سماجی و اقتصادی فوائد متوقع ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین