مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)امریکا نے غزہ میں فوری جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی قرارداد کو ویٹو کر دیا، جبکہ ڈیموکریٹس نے فلسطین کو تسلیم کرنے کی قرارداد پیش کر دی۔
- مشرقِ وسطیٰ پر توجہ شیڈول شدہ ٹرمپ-شہباز ملاقات کو متاثر کر سکتی ہے۔
- وزیراعظم لندن روانہ، دو ریاستی حل پر اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
واشنگٹن: جیسے ہی عالمی رہنما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 80ویں اجلاس کے لیے نیویارک پہنچ رہے ہیں، غزہ اور قطر کے بڑھتے ہوئے بحران عالمی سفارتی ترجیحات کو بدل رہے ہیں، جس کے پاکستان-امریکا تعلقات پر بھی اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ فلسطین کے مسئلے کے پُرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ سے متعلق اعلیٰ سطحی عالمی کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔ اس کانفرنس میں پاکستانی وفد کو عرب اور مسلم رہنماؤں سے قریبی مشاورت کرنا ہوگی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا کہ 80واں اجلاس ’’پُرآشوب اور غیر یقینی حالات‘‘ میں ہو رہا ہے۔ فلسطینی مندوب ریاض منصور کے مطابق، فلسطین اس اجلاس میں ’’سب سے بڑا موضوع‘‘ ہو گا جو دنیا کے رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بنے گا۔
امریکی ویٹو اور قرارداد
جمعرات کو امریکا نے سلامتی کونسل کی اُس قرارداد کو ویٹو کر دیا جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی اور محصور فلسطینی علاقے میں امداد کی رکاوٹیں ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قرارداد کے حق میں 14 ووٹ آئے، مگر امریکا نے چھٹی بار ویٹو کا استعمال کیا۔
اسی دوران امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹس نے ایک قرارداد پیش کی جس میں امریکا سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایک غیر مسلح فلسطینی ریاست کو اسرائیل کے ساتھ تسلیم کرے۔ اگرچہ اس قرارداد کے ایوان سے منظور ہونے کے امکانات کم ہیں، لیکن یہ امریکا میں بڑھتی ہوئی بحث کی نشاندہی کرتی ہے۔
شیڈول کی تبدیلی
پاکستان کے سخت مؤقف اور اسرائیلی حملے پر قطر کے دفاع میں سفارتی سرگرمیوں نے مسلم دنیا میں اس کا کردار مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اس دوران امکان ہے کہ جنرل اسمبلی کے موقع پر شیڈول ملاقاتیں مشرقِ وسطیٰ کی ہنگامہ خیز سفارت کاری کے باعث متاثر ہوں گی۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف کی ممکنہ ملاقات کو بھی ری شیڈول کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ اسرائیلی اور عرب رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تصدیق کر دی ہے۔ اس پس منظر میں امکان ہے کہ شہباز-ٹرمپ ملاقات صرف نیویارک میں سائیڈ لائنز تک محدود ہو۔ تاہم اسلام آباد وائٹ ہاؤس میں باضابطہ ملاقات کا خواہاں ہے۔
چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔
وزیراعظم لندن میں
وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو اپنے دورہ امریکا سے قبل لندن پہنچے، جہاں وہ برطانوی حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کریں گے۔ لندن روانگی سے قبل انہوں نے جنیوا میں اپنے بھائی نواز شریف سے ملاقات کی جو طبی علاج کے لیے وہاں موجود ہیں۔
وزیراعظم کے ہمراہ وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی ہوں گے۔

