برازیلیا (مشرق نامہ) – برازیل کے صدر لُوئز اناسیو لولا دا سلوا نے بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے "کوئی تعلق” نہیں ہے۔
لولا ماضی میں ٹرمپ پر بارہا تنقید کرتے رہے ہیں، تاہم یہ اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے ٹوٹ چکے ہیں۔
امریکا کے پاس برازیل کے ساتھ تجارتی سرپلس ہونے کے باوجود، ڈونلڈ ٹرمپ نے جولائی میں برازیلی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیے۔ انہوں نے اس فیصلے کی وجہ برازیل کے سابق دائیں بازو کے صدر جائیر بولسونارو کے خلاف بغاوت کے مقدمے کو قرار دیا۔
لولا نے ان ٹیرف کو "سراسر سیاسی” قرار دیا اور کہا کہ اس کے نتیجے میں امریکی صارفین کو برازیلی مصنوعات مہنگی ملیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام صدر ٹرمپ کی ان غلطیوں کی قیمت ادا کریں گے جو انہوں نے برازیل کے ساتھ تعلقات میں کی ہیں۔
ٹیرف نے خاص طور پر برازیل کی امریکا کو برآمدات جیسے کافی اور گوشت کو متاثر کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کبھی براہِ راست بات نہیں کی۔ جب لولا سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ٹرمپ کو فون کرنے یا تعلق قائم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس لیے کبھی کال نہیں کی کیونکہ ٹرمپ بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔
ٹرمپ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ لولا انہیں کسی بھی وقت کال کر سکتے ہیں، تاہم لولا کے مطابق امریکی انتظامیہ بات چیت کی خواہش مند نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امریکی ٹیرف کے بارے میں برازیلی اخبارات سے معلوم ہوا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے مہذب انداز میں بات چیت نہیں کی بلکہ محض سوشل میڈیا پر اعلان کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو کیسے بیان کریں گے تو ان کا جواب تھا: "کوئی تعلق نہیں ہے۔”
لولا نے مزید کہا کہ ٹرمپ "امریکا کے صدر ہو سکتے ہیں لیکن دنیا کے بادشاہ نہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کا فقدان ایک استثنائی صورت ہے، کیونکہ انہوں نے سابق امریکی صدور، برطانوی وزرائے اعظم، یورپی یونین، چین، یوکرین، وینزویلا اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے تعلقات دراصل ٹرمپ سے نہیں بلکہ بولسونارو سے جڑے ہیں کیونکہ وہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں صدر نہیں تھے۔ اگرچہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کو دیکھیں گے تو انہیں سلام کریں گے کیونکہ وہ "مہذب شہری” ہیں۔
انٹرویو میں لولا نے بولسونارو پر بھی تنقید کی، جو حال ہی میں بغاوت کی سازش کے الزام میں سپریم کورٹ سے سزا یافتہ قرار پائے ہیں۔ عدالت نے انہیں 27 برس قید کی سزا سنائی۔ لولا نے کہا کہ بولسونارو اور ان کے ساتھیوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، بغاوت کی کوشش کی اور ان کے قتل کی سازش بھی کی۔
لولا نے یہ بھی کہا کہ اگر 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپیٹل پر حملے جیسا واقعہ برازیل میں پیش آتا تو ٹرمپ پر مقدمہ چلایا جاتا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے پاس ویٹو پاور ہونا غیر متوازن ہے اور یہ دوسروں کو نظرانداز کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یوکرین کی جنگ اور غزہ کی "نسل کشی” جیسے سانحات رکے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ برازیل روس اور چین کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے، اور روس سے تیل اسی طرح خریدتا ہے جیسے دیگر ممالک، بشمول امریکا، اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خریدتے ہیں۔
ماحولیاتی مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ فوسل فیول کے بغیر دنیا کے حامی ہیں لیکن فی الحال یہ وقت نہیں آیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ برازیل قانون کے مطابق تیل کی تلاش کر رہا ہے اور اگر کوئی حادثہ ہوا تو ملک اس کی ذمہ داری قبول کرے گا۔
79 سالہ لولا نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ 2026 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے یا نہیں۔ اس کا انحصار ان کی صحت، پارٹی اور سیاسی حالات پر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی میراث بھوک کو کم کرنا، بیروزگاری گھٹانا اور محنت کش طبقے کی آمدنی میں اضافہ ہے۔

