منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیفرانس میں بجٹ کٹوتیوں پر ملک گیر ہڑتالیں اور مظاہرے

فرانس میں بجٹ کٹوتیوں پر ملک گیر ہڑتالیں اور مظاہرے
ف

پیرس (مشرق نامہ) – فرانس میں جمعرات کو صدر ایمانوئل میکرون کی بجٹ پالیسیوں کے خلاف ملک گیر ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے متاثر ہوئے جبکہ حکام نے 9 لاکھ تک مظاہرین کے خدشے کے پیش نظر سخت سکیورٹی انتظامات کر دیے۔

یہ احتجاج 44 ارب یورو (52 ارب ڈالر) کے مجوزہ بجٹ کے خلاف ہے، جسے سابق وزیراعظم فرانسوا بیرو نے تیار کیا تھا۔ اس بجٹ میں اخراجات میں کٹوتی اور دو سرکاری تعطیلات ختم کرنے کی تجویز شامل ہے۔

یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسیاں، بشمول گزشتہ سال کی متنازع پنشن اصلاحات، عوامی اعتماد کو کمزور کر چکی ہیں۔ اساتذہ کی یونین ایس این ای ایس-ایف ایس یو کی سیکرٹری جنرل صوفی وینیتیے نے کہا کہ سباستیان لیکورنو کی بطور وزیراعظم تقرری نے عوامی غصے کو کم نہیں کیا۔

ہڑتال کے باعث تعلیمی، صحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں خلل آیا۔ ایک تہائی اساتذہ نے ہڑتال میں حصہ لیا، نو میں سے دس فارمیسیاں بند رہیں، جبکہ پیرس میٹرو کی صرف تین بغیر ڈرائیور والی لائنیں معمول کے مطابق چل سکیں۔

حکام کے مطابق مظاہروں میں 6 لاکھ سے 9 لاکھ افراد کی شرکت متوقع تھی، جو 2023 کے اوائل کے بعد سب سے بڑا احتجاجی اجتماع قرار دیا گیا۔ اس وقت بھی میکرون کی پنشن اصلاحات کے خلاف کئی ماہ تک مظاہرے جاری رہے تھے، جو بالآخر پارلیمانی منظوری کے بغیر نافذ کی گئی تھیں۔

وزیر داخلہ برونو ریٹیلو نے خبردار کیا کہ الٹرا لیفٹ گروپوں کی جانب سے تخریب کاری کے خدشات ہیں۔ 80 ہزار سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکار، ڈرون، واٹر کینن اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کی گئیں۔ پیرس پولیس چیف لوراں نیونییز نے کاروباری اداروں کو اپنی دکانیں بند رکھنے یا حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرے نئے وزیراعظم سباستیان لیکورنو کی صلاحیتوں کا ابتدائی امتحان ہیں، تاہم عوامی غصہ براہِ راست صدر میکرون کی طرف ہے جن کی مقبولیت میں کمی آئی ہے جبکہ ان کی مدتِ صدارت میں 18 ماہ باقی ہیں۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب فرانس شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ گزشتہ ہفتے سابق وزیراعظم فرانسوا بیرو نیشنل اسمبلی میں بجٹ فریم ورک پر اعتماد کا ووٹ ہار گئے، جس میں 44 ارب یورو کی کٹوتیاں شامل تھیں۔ اس وقت فرانس کا قرضہ جی ڈی پی کے 113 فیصد کے برابر ہے، جو یورپی یونین میں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔

صدر میکرون نے منگل کے روز دفاعی وزیر سباستیان لیکورنو کو نیا وزیراعظم مقرر کیا اور انہیں نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا ٹاسک دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بجٹ سے جڑی کشمکش فرانس کی سیاست میں ایک مستقل مسئلہ بنتی جارہی ہے۔

ملکی سطح پر ٹریڈ یونینز نے 18 ستمبر کو ملک گیر احتجاجی دن قرار دیا ہے، جو حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف منظم مزاحمت کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتے اس بات کا امتحان ہوں گے کہ آیا احتجاجی تحریک اپنی طاقت برقرار رکھ پاتی ہے یا حکومت سیاسی اور معاشی استحکام بحال کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین