منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستانپاکستان اور آئی اے ای اے کا پُرامن جوہری استعمال کے لیے...

پاکستان اور آئی اے ای اے کا پُرامن جوہری استعمال کے لیے شراکت مضبوط کرنے پر اتفاق
پ

اسلام آباد، 17 ستمبر (اے پی پی):پاکستان اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے بدھ کے روز ویانا میں جاری جنرل کانفرنس کے موقع پر 2026 تا 2031 کے لیے پانچواں "کنٹری پروگرام فریم ورک” (CPF) پر دستخط کیے۔

پاکستان کی جانب سے یہ فریم ورک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے جبکہ آئی اے ای اے کی جانب سے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اور ہیڈ ڈیپارٹمنٹ آف ٹیکنیکل کوآپریشن ہوا لیو نے دستخط کیے۔

یہ فریم ورک ان قومی ترجیحات کی نشاندہی کرتا ہے جہاں جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی براہِ راست سماجی و معاشی ترقی کی معاونت کرے گی۔ یہ کئی دہائیوں پر مشتمل تعاون پر مبنی ہے اور پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے اور بین الاقوامی عہد و پیمان، بشمول پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs)، کے مطابق ہے۔ تین تکنیکی تعاون کے سائیکلوں پر محیط یہ فریم ورک پانچ کلیدی شعبوں کی نشاندہی کرتا ہے: خوراک و زراعت، انسانی صحت و غذائیت، موسمیاتی تبدیلی و آبی وسائل کا انتظام، جوہری توانائی، اور تابکاری و جوہری حفاظت۔

زراعت:
جو ملکی جی ڈی پی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے اور ایک تہائی سے زیادہ افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے، اس میں جوہری تکنیک کے ذریعے فصلوں کی پیداوار بڑھائی جائے گی، کیڑوں پر قابو مضبوط بنایا جائے گا، مویشیوں کی صحت بہتر ہوگی اور خوراک کے معیار کو محفوظ بنایا جائے گا۔ پاکستان کا آئی اے ای اے کے Atoms4Food اقدام میں حصہ لینا خوراک کی سکیورٹی اور موسمیاتی مزاحم زراعت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

صحت:
کینسر اور غیر متعدی امراض میں تیزی سے اضافے کے باعث صحت کو مرکزی ترجیح دی گئی ہے۔ سی پی ایف کے ذریعے پاکستان، آئی اے ای اے کے ساتھ جوہری طب، ریڈی ایشن آنکولوجی، میڈیکل فزکس اور ریڈیو فارماسوٹیکلز کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دے گا۔ 20 ایٹمی توانائی کینسر ہسپتالوں کا نیٹ ورک، جو پہلے ہی ہر سال دس لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کر رہا ہے، جدید علاجی سہولتوں، درست تشخیص اور مقامی سطح پر تیار شدہ سستی ادویات سے مزید مستفید ہوگا۔

ماحول و موسمیات:
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں اور پانی کی شدید قلت اور غیر متوقع موسمی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں جوہری تکنیک، خصوصاً آئسوٹوپ ہائیڈرولوجی کے ذریعے پانی کے وسائل کی نگرانی، آبپاشی کی بہتری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلئیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (PINSTECH) بطور آئی اے ای اے کولیبریٹنگ سینٹر ان تکنیکوں کے نفاذ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

توانائی:
جوہری توانائی اس وقت پاکستان کی سالانہ بجلی پیداوار کا 18 فیصد سے زائد فراہم کر رہی ہے، ملک میں چھ فعال پلانٹس ہیں اور ایک چشمہ میں زیر تعمیر ہے۔ فریم ورک کا فوکس پلانٹ لائف مینجمنٹ، ویسٹ مینجمنٹ، نان ڈسٹرکٹیو ٹیسٹنگ اور محفوظ ڈیکمیشرنگ پر ہے تاکہ طویل مدتی توانائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور پاکستان 2030 تک گرین ہاؤس گیسز میں کمی کے اہداف پورے کر سکے۔

محفوظ استعمال:
پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (PNRA) جوہری سرگرمیوں کی نگرانی مزید مضبوط بنائے گی۔ آئی اے ای اے کی معاونت سے ایمرجنسی تیاری، تابکار فضلہ ٹھکانے لگانے، محفوظ ٹرانسپورٹ اور ریگولیشن میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی صلاحیتیں بہتر بنائی جائیں گی تاکہ کارکنان، عوام اور ماحول کا تحفظ کیا جا سکے اور بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر عمل یقینی ہو۔

ہر شعبے میں سی پی ایف صنفی مساوات پر زور دیتا ہے اور سائنسی میدان میں خواتین کی شمولیت اور جوہری ٹیکنالوجی کے فوائد تک منصفانہ رسائی کو اجاگر کرتا ہے۔

موقع پر چیئرمین پی اے ای سی ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا:
"اس کنٹری پروگرام فریم ورک پر دستخط پاکستان کے جوہری سائنس و ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کے غیر متزلزل عزم کی تجدید ہے۔ آئی اے ای اے کی مدد سے پاکستان خوراک کے تحفظ، صحت کی بہتری، توانائی کے تحفظ اور ماحول کے تحفظ کے لیے ان وسائل سے استفادہ کرتا رہے گا۔ ہم پرعزم ہیں کہ جوہری ٹیکنالوجی کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔”

آئی اے ای اے کے ڈپٹی ڈی جی ہوا لیو نے پاکستان کی فعال شمولیت کو سراہا اور سی پی ایف کو پائیدار ترقی کے لیے پُرامن جوہری تعاون کا مشترکہ وژن قرار دیا۔

2026 تا 2031 کا یہ فریم ورک پاکستان اور آئی اے ای اے کی دیرینہ شراکت داری کی گواہی دیتا ہے۔ اس کا نفاذ پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کو مضبوط کرے گا اور آئی اے ای اے کے عالمی مشن کے لیے پاکستان کے ایک ذمہ دار رکن کے کردار کو مزید مستحکم بنائے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین