کراکاس (مشرق نامہ) – وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ وینیزویلا کے خلاف سامراجی جنگ چھیڑ رہا ہے۔ یہ الزام اس وقت سامنے آیا جب امریکی افواج نے چند ہفتوں میں دوسری مرتبہ وینیزویلا کی کشتی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔
مادورو نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام وینیزویلا کے وسائل پر قبضہ کرنے اور ایک کٹھ پتلی حکومت مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی خطرے کا مقابلہ اور اس کی شکست صرف قومی اتحاد کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ وینیزویلا کے خلاف ایک غیر اخلاقی جنگ میں ملوث ہے جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ امریکی افواج نے ایک اور وینیزویلا کی کشتی کو نشانہ بنایا جس میں تین افراد مارے گئے جنہیں انہوں نے "منشیات لے جانے والے دہشت گرد” قرار دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ کارروائی ان کی انتظامیہ کی منشیات فروش کارٹیلز کے خلاف مہم کا حصہ ہے اور اس کے ذریعے فوجی طاقت کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ گزشتہ دو ہفتوں میں دوسرا حملہ ہے، اس سے قبل 2 ستمبر کو ایک وینیزویلا کی کشتی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
مادورو کی وارننگ: ’سچائی کی جنگ‘ اور دفاعی حکمت عملی
صدر مادورو نے اس سے قبل متنبہ کیا تھا کہ ان کا ملک امن کے تحفظ کے لیے ایک ’’عظیم سچائی کی جنگ‘‘ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے غیر ملکی طاقتوں پر الزام لگایا کہ وہ وینیزویلا کے خلاف عسکری اور سیاسی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہیں۔
پیر کو بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مادورو نے کہا کہ وینیزویلا کو حال ہی میں ’’میزائل بردار بحری جہازوں اور ایک جوہری آبدوز‘‘ کی موجودگی سے خطرہ لاحق ہوا ہے اور انہیں ذاتی طور پر دھمکیاں بھی موصول ہوئی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر دفاع ولادی میر پادرینو لوپیز سمیت دیگر اعلیٰ حکام کا حوالہ دیا جنہیں بھی ایسی ہی دھمکیاں دی گئیں۔
مادورو نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی جنگی جہاز "یو ایس ایس جیسن ڈنہم” نے وینیزویلا کی ایک ماہی گیر کشتی کو ملکی پانیوں میں ’’غیر قانونی طور پر روکنے‘‘ کی کوشش کی، جسے وینیزویلا کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی دانستہ سازش قرار دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جارحیت عدالتی، سیاسی اور عسکری نوعیت کی ہے، جو ملک کے جائز دفاع کو ناگزیر بناتی ہے۔ ’’ہمارا جواب یہ ہے کہ ہم وینیزویلا کے عوام کو بااختیار بنائیں، انہیں تربیت دیں اور اپنی سچائی کا دفاع کریں۔‘‘
’ہم ایماندار لوگ ہیں، جارحیت کا مقابلہ کریں گے‘
بولیویرین رہنما نے وینیزویلا کے عوام کو ’’ایماندار اور اکیسویں صدی کے انقلابی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی شناخت انہیں نشانہ بنائے جانے کی وجہ بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وینیزویلا ’’مکمل جارحیت‘‘ کا سامنا کر رہا ہے، یہ صرف جغرافیائی سیاسی تناؤ نہیں ہے۔ اس موقع پر انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد رہیں۔
مادورو نے کہا کہ عوامی شمولیت ان کی حکومت کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔ ’’ہم عوام کو تربیت دے رہے ہیں؛ ہم اپنی سچائی کا دفاع کر رہے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو محض تماشائی نہیں بلکہ قومی دفاع کا فعال کردار ادا کرنے والا بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی میڈیا پر زور دیا کہ وہ وینیزویلا کے بارے میں ’’سچائی دکھانے کے لیے اخلاقی ذمہ داری‘‘ ادا کرے، کیونکہ جانبدار بیانیے عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں۔ ’’یہ صرف امن کے لیے جدوجہد نہیں بلکہ گمراہ کن معلومات کے خلاف بھی جنگ ہے،‘‘ انہوں نے کہا اور صحافیوں پر زور دیا کہ وہ غیر ملکی ایجنڈوں کے بجائے ذمہ دار رپورٹنگ کے ذریعے حقیقت کو اجاگر کریں۔
مادورو کے یہ بیانات بحری واقعات اور غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ ان کا مقصد داخلی سطح پر اتحاد کو مستحکم کرنا اور بین الاقوامی سطح پر وینیزویلا کی تصویر کشی کے حوالے سے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔

