منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامییورپی یونین کی اسرائیل سے تجارتی رعایتیں معطل کرنیکی تجویز

یورپی یونین کی اسرائیل سے تجارتی رعایتیں معطل کرنیکی تجویز
ی

یورپی کمیشن نے اسرائیلی حکومت کے ’انتہا پسند وزراء‘ اور پرتشدد آبادکاروں پر پابندیوں کی بھی سفارش کی ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)–یورپی یونین کے مرکزی انتظامی ادارے یورپی کمیشن نے اسرائیل کے خلاف ایک تاخیر کا شکار اور طویل عرصے سے متوقع تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت یورپی یونین اور اسرائیل کے مابین موجودہ ایسوسی ایشن معاہدے کی بعض تجارتی شقوں کو معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ اقدام غزہ پر اسرائیلی جنگ کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

تاہم یہ پابندیاں فی الحال یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کی مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ بدھ کو اعلان کردہ تجاویز میں حماس کے رہنماؤں، پرتشدد اسرائیلی آبادکاروں اور وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی کابینہ کے دو دائیں بازو وزراء ــ قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر اور وزیر خزانہ بیتزیلیل سموٹریچ ــ پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالس نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ بعض اسرائیلی مصنوعات پر محصولات بڑھائیں اور حماس کے 10 رہنماؤں کے ساتھ مذکورہ اسرائیلی شخصیات پر بھی پابندیاں لگائیں۔

کمیشن نے یہ بھی اعلان کیا کہ اسرائیل کو دی جانے والی دو طرفہ معاونت کو معطل کیا جائے گا، سوائے ان امدادی پروگراموں کے جو سول سوسائٹی یا یاد واشم ــ ورلڈ ہولوکاسٹ ریممبرنس سینٹر ــ سے متعلق ہوں۔

کمیشن کے مطابق یہ تجاویز اسرائیل کے ایسوسی ایشن معاہدے کے آرٹیکل 2 پر عملدرآمد کے جائزے کے بعد دی گئی ہیں، جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اسرائیلی حکومت کے اقدامات انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ اس بنیاد پر یورپی یونین کو معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ خلاف ورزیاں خاص طور پر غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال، انسانی امداد کی ناکہ بندی، فوجی حملوں میں شدت اور مغربی کنارے کے ای 1 علاقے میں اسرائیلی آبادکاری منصوبے کو آگے بڑھانے کے فیصلے سے جڑی ہوئی ہیں، جو دو ریاستی حل کو مزید کمزور کرتا ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لائن نے کہا کہ غزہ میں روزانہ پیش آنے والے خوفناک واقعات کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ فوری جنگ بندی، تمام انسانی امداد تک غیر مشروط رسائی اور حماس کی جانب سے تمام یرغمالیوں کی رہائی ناگزیر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہی اصولی وعدوں اور مغربی کنارے میں حالیہ سنگین واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اسرائیل کے ساتھ تجارتی رعایتوں کی معطلی، انتہا پسند وزراء اور پرتشدد آبادکاروں پر پابندیاں اور اسرائیل کو دی جانے والی دو طرفہ معاونت کو معطل کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں، تاہم یہ اقدامات اسرائیلی سول سوسائٹی یا یاد واشم کے ساتھ تعاون پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں یورپی وزرائے خارجہ نے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف غزہ میں تباہ کن جنگ اور مغربی کنارے میں سخت کریک ڈاؤن کے ردعمل پر بحث کی تھی، جہاں یورپی یونین کے امدادی سربراہ نے رکن ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے اقدامی مؤقف کو ایسی ’مضبوط آواز‘ میں یکجا کریں جو ہمارے اقدار اور اصولوں کی عکاسی کرے۔

گزشتہ کئی مہینوں سے یورپ بھر میں مظاہرین سڑکوں پر نکل کر اپنی حکومتوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہو۔ اقوام متحدہ کے ایک حالیہ انکوائری کمیشن نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ غزہ میں جاری کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں۔

تاہم اب تک یورپی یونین اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے کسی متحدہ لائحہ عمل پر متفق نہیں ہو سکی۔ کچھ رکن ممالک جیسے اسپین اور آئرلینڈ نے اسرائیل کے خلاف اقتصادی اقدامات اور اسلحے کی پابندی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ جرمنی اور ہنگری جیسے دیگر ممالک نے اسرائیلی حکومت کے خلاف پابندیوں کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین