منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیل کیخلاف مسلم اتحاد میں سعودی عرب کی ’بھاری ذمہ داری‘ :صدر...

اسرائیل کیخلاف مسلم اتحاد میں سعودی عرب کی ’بھاری ذمہ داری‘ :صدر پزشکیان
ا

تہران(مشرق نامہ) – ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ بڑے مسلم ممالک، بالخصوص سعودی عرب، موجودہ حالات میں ’’بہت بڑی ذمہ داری‘‘ اٹھائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اسرائیلی جارحیت کو روک سکتا ہے۔

صدر یزشکیان نے یہ گفتگو پیر کے روز دوحہ، قطر میں اسلامی ممالک اور عرب لیگ کے سربراہان کے ہنگامی اجلاس کے موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں کی۔ یہ اجلاس اسرائیل کی 9 ستمبر کو دوحہ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنماؤں پر ناکام قاتلانہ حملوں کے بعد باضابطہ ردعمل پر غور کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

ایرانی صدر نے زور دیا کہ اگر اسلامی ممالک متحد ہوں تو اسرائیلی حکومت ’’کسی بھی مسلم ملک پر حملہ یا جارحیت کی جرات نہیں کرے گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اسلامی ممالک کے اتحاد کی راہ میں ’’اہم کردار‘‘ ادا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب ولی عہد محمد بن سلمان نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ایران، سعودی عرب اور ترکی جیسے بڑے اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات فروغ پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کو ’’طویل المدتی طور پر مزید طاقتور ہونا ہوگا‘‘ تاکہ وہ اسلامی دنیا میں اپنی آزادی اور وقار کا بہتر طور پر دفاع کر سکیں اور ’’صیہونی حکومت کی جارحیت اور زیادتیوں کو روک سکیں‘‘۔

بن سلمان نے خطے کی نازک صورتحال اور فلسطین کے حالات کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا خطہ ایک خاص صورتحال سے گزر رہا ہے، اس لیے ہمارے، آپ کے اور دیگر اسلامی ممالک کے درمیان تعاون اور اتحاد کو مضبوط بنانا اختیار نہیں بلکہ ایک قطعی ضرورت ہے۔

’اسلامی اتحاد اسرائیل کا مقابلہ کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ‘

مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات میں صدر پزشکیان نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان ’’اتحاد اور ہم آہنگی کو مضبوط کرنا‘‘ اسرائیلی جرائم کی تکرار اور تسلسل کو روکنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

مصری صدر نے بھی زور دیا کہ اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے اور اسرائیلی جرائم میں اضافے کے خلاف ’’یکساں اور عملی مؤقف‘‘ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے ایران اور مصر کے تعلقات میں بہتری پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس ایسے مواقع موجود ہیں جن سے دوطرفہ مفادات کے ساتھ ساتھ خطے کی دیگر اقوام کے مفادات کو بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

اسی طرح پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں صدر پزشکیان نے کہا کہ اسرائیل کے ’’وحشیانہ جرائم‘‘ کا مقابلہ کرنے کا واحد طریقہ اسلامی ممالک کا اتحاد، یکساں مؤقف اور عملی اقدامات ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی جرائم کے خلاف ایک ’’منظم اور متحد مؤقف‘‘ اپنانے کی ضرورت ہے اور مسلم ممالک کو ’’متفقہ اور مربوط‘‘ اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ مزید جارحیت روکی جا سکے۔

اسرائیل جرائم میں ’کسی حد کا قائل نہیں‘

لبنان کے صدر جوزف عون کے ساتھ ملاقات میں صدر پزشکیان نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ’’کسی بھی حد یا سرحد کا پابند نہیں‘‘۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ جو ممالک آزادی اور انسانی حقوق کے دفاع کا دعویٰ کرتے ہیں وہ غزہ کے بارے میں خاموش ہیں بلکہ اسرائیل کو ’’فوجی اور قانونی مدد‘‘ فراہم کر رہے ہیں۔

ایک اور ملاقات میں تاجک صدر امام علی رحمان سے گفتگو کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ اسرائیل، جسے امریکہ اور یورپی ممالک کی پشت پناہی حاصل ہے، اپنے جرائم میں کسی بھی حد کو تسلیم نہیں کرتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف اسلامی ممالک کا ’’اتحاد اور ہم آہنگی‘‘ ہی اس ’’وحشیانہ حکومت کی قتل و غارت مشین اور جرائم‘‘ کو روک سکتی ہے۔

صدر رحمان نے بھی اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ یکجہتی ہی اسرائیلی جرائم کے تسلسل کو روکنے کا راستہ ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین