منگل, فروری 17, 2026
ہومنقطہ نظرغزہ میں نسل کشی پر اسرائیل کی مذمت اسے مزید بے خوف...

غزہ میں نسل کشی پر اسرائیل کی مذمت اسے مزید بے خوف کر سکتی ہے، جب تک اسے سزا نہ دی جائے
غ

اب سرکردہ ماہرین اور ادارے متفق ہیں کہ غزہ میں نسل کشی جاری ہے۔ لیکن بامعنی اقدام کے بغیر، یہ قتلِ عام رک نہیں گا۔

احمد نجار

غزہ کے حوالے سے اب لفظ ’’نسل کشی‘‘ کسی بحث کا موضوع نہیں رہا۔ جو بات کبھی مظاہروں میں مبالغہ قرار دی جاتی تھی، اب دنیا کی سرکردہ انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ کے ماہرین اور نسل کشی کے محققین دہرا رہے ہیں۔ ’’انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف جینوسائیڈ اسکالرز‘‘، اقوام متحدہ کا ’’کمیشن آف انکوائری‘‘ اور بے شمار مقامی و عالمی غیر سرکاری ادارے سب یہ نتیجہ اخذ کر چکے ہیں کہ اسرائیل کا غزہ پر حملہ 1948 کے ’’کنونشن برائے انسداد اور سزاے جرمِ نسل کشی‘‘ کے تحت نسل کشی کی تعریف پر پورا اترتا ہے، جو اس جرم کو قانونی طور پر متعین اور ممنوع قرار دیتا ہے۔

یہ چند سرگرم کارکنوں کا مؤقف نہیں بلکہ بے پناہ شواہد اور ماہرین کی رائے کا غلبہ ہے۔ اسرائیل چاہے جتنا انکار، توجیہہ یا ردعمل دے، وہ اس حقیقت سے نہیں بچ سکتا کہ تاریخ پہلے ہی اس کا اندراج کر چکی ہے: غزہ تباہ کیا جا رہا ہے، اس کے عوام کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور فلسطینی زندگی کو مٹانے کے ارادے کو حقیقی وقت میں دستاویزی شکل دی جا رہی ہے۔

لیکن اب جو سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے وہ یہ ہے کہ عمل کے بغیر اس اعتراف کی حیثیت کیا ہے؟ اگر نسل کشی کو تسلیم کیا جائے لیکن اسے روکنے کے لیے کچھ نہ کیا جائے تو اس کا مطلب کیا ہوگا؟ یہ الزام کسی ریاست کے خلاف سب سے سنگین الزام ہے، مگر اگر جواب صرف الفاظ کی حد تک رہے تو وہی الفاظ شریکِ جرم بننے لگتے ہیں۔ اگر اسرائیل نسل کشی کی حد عبور کر چکا ہے تو کیا اس کے رکنے کی کوئی وجہ باقی رہتی ہے؟ یا پھر جرم کا نام لینا مگر نتائج نہ دینا دراصل اسے مزید شہہ دیتا ہے کہ قتلِ عام تیز کرے، اس یقین کے ساتھ کہ دنیا دیکھے گی، مذمت کرے گی، اور آخرکار کچھ نہ کرے گی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ نسل کشی کبھی بھی اپنے مرتکبین کی ہمدردی سے نہیں رکی۔ 1994 میں روانڈا میں قتلِ عام کو چند ہی ہفتوں میں نسل کشی قرار دیا گیا، لیکن کوئی مداخلت نہ ہوئی جب تک ’’روانڈا پیٹریاٹک فرنٹ‘‘ نے فوجی پیش قدمی کر کے قتل و غارت کو ختم نہ کیا۔ بوسنیا و ہرزگووینا میں، 1992 تک نسلی تطہیر اور قتل عام کو نسل کشی کہا جانے لگا تھا، مگر دنیا خاموش تماشائی رہی۔ نتیجہ 1995 میں سربرینیتسا میں نکلا، جہاں اقوام متحدہ کے ’’محفوظ علاقے‘‘ میں آٹھ ہزار سے زائد مردوں اور لڑکوں کو ذبح کیا گیا۔

دارفور میں، 2004 ہی میں امریکہ اور عالمی اداروں نے اسے نسل کشی قرار دیا، مگر کمزور پابندیوں اور بعد میں ’’انٹرنیشنل کرمنل کورٹ‘‘ کی فردِ جرم کے سوا کوئی سنجیدہ اقدام نہ کیا گیا، جب کہ لاکھوں افراد قتل یا بے گھر ہوئے۔ حالیہ برسوں میں میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مہم کو اقوام متحدہ اور بڑی انسانی حقوق کی تنظیموں نے نسل کشی قرار دیا، مگر عالمی ردعمل پھر بھی رپورٹوں اور علامتی اقدامات تک محدود رہا۔ ان تمام مثالوں میں تسلیم تو ہوا مگر فیصلہ کن اقدام نہ آیا۔ اور ان سب میں نسل کشی صرف تب رکی یا سست ہوئی جب طاقت نے، خواہ مقامی ہو یا عالمی، زمینی حقائق کو بدلا۔

تو پھر غزہ کیوں مختلف ہوگا؟ خطرہ تو اور بھی بڑھا ہوا ہے۔ اسرائیل کوئی تنہا ریاست نہیں جیسے سوڈان یا میانمار؛ وہ مغربی طاقتوں کے ساتھ گہری شراکت رکھتا ہے جو اسے اسلحہ فراہم کرتی اور سفارتی ڈھال دیتی ہیں۔ اب جب کہ غزہ پر نسل کشی کا لیبل لگ چکا ہے، اسرائیل جانتا ہے کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ یہ داغ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا، دنیا کے بڑے جرائم کی تاریخ میں درج رہے گا۔

لیکن یہ داغ روکنے کے بجائے اسرائیلی قیادت کو مزید آگے بڑھنے پر قائل کر سکتا ہے۔ اگر وہ پہلے ہی مذمت زدہ ہیں، اگر ان کی وراثت نسل کشی سے جڑ گئی ہے، تو پھر کیوں نہ کام مکمل کیا جائے؟ کیوں نہ اسے ایک لاکھ، دو لاکھ یا دس لاکھ اموات تک لے جایا جائے؟ یا غزہ کی آبادی کو مکمل طور پر مٹا دیا جائے؟

یہ سوچ خوفناک ہے مگر بعید نہیں۔ ہم ایک ایسی ریاست سے واسطہ رکھتے ہیں جس نے جان بوجھ کر پناہ گزین کیمپوں کو بمباری کا نشانہ بنایا، اسپتالوں کو تباہ کیا، خوراک و پانی کو روکا، اور کھلے عام غزہ کو ناقابلِ رہائش بنانے کی بات کی۔ جب ایک حد عبور کر لی جائے تو اسے دوبارہ عبور کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

خطرہ یہ ہے کہ عالمی برادری نسل کشی کے اعتراف کو ہی ایک اختتام سمجھ رہی ہے۔ رپورٹس تیار ہوتی ہیں، قراردادیں منظور کی جاتی ہیں، ماہرین کے انٹرویوز نشر ہوتے ہیں۔ میڈیا باقاعدگی سے رپورٹ کرتا ہے کہ نسل کشی جاری ہے، ’’جرائم میں سب سے بڑا جرم‘‘۔ اور اسی دوران، غزہ میں زندگی روز بروز ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ خاندان بھوکے مر رہے ہیں، محلے ملبے میں بدل رہے ہیں، بچے مٹی کے تلے دفن ہو رہے ہیں۔

اگر اقوام متحدہ اور دنیا کے نمایاں ترین ماہرینِ نسل کشی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ یہ نسل کشی ہے اور پھر بھی کوئی فیصلہ کن اقدام نہیں ہوتا، تو اسرائیل کو کیا پیغام ملتا ہے؟ یہی کہ الفاظ صرف الفاظ ہیں، کہ بین الاقوامی قانون کا سب سے سنگین جرم بھی رکاوٹ نہیں، اور عالمی برادری کا غصہ محض بیانات کی بلندی تک رہے گا، کبھی پابندیوں، ہتھیاروں کی بندش یا مداخلت تک نہیں پہنچے گا۔

1948 میں نازی ہولوکاسٹ کے بعد اپنایا گیا ’’کنونشن برائے انسداد نسل کشی‘‘ محض بعد از جرم سزا دینے کے لیے نہیں، بلکہ جرم کے دوران اسے روکنے کی قانونی ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔ روکنے کا مطلب ہے عمل کرنا: ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنا، پابندیاں عائد کرنا، سفارتی تنہائی مسلط کرنا، اور تباہی کے نظام کو ہر ممکن طریقے سے روکنا۔ یہ سب کچھ نہیں ہو رہا۔ اس کے برعکس، اسرائیل کے بہت سے اتحادی اب بھی اسے اسلحہ فراہم کرتے ہیں، جوابدہی سے بچاتے ہیں اور اس کے رہنماؤں کے لیے سرخ قالین بچھاتے ہیں۔ نسل کشی کو تسلیم کرنے اور اسے روکنے کے درمیان جو خلا ہے، وہ محض منافقت نہیں بلکہ شریکِ جرم ہونا ہے۔

اب جو کچھ ہونے والا ہے، وہ صرف عالمی برادری کے اخلاقی پیمانے کو ہی نہیں بلکہ اس کی ساکھ کو بھی پرکھے گا۔ اگر نسل کشی سب کے سامنے کی جا سکتی ہے، اقوام متحدہ اور دنیا کے اعلیٰ ترین ماہرین اسے نسل کشی قرار دے سکتے ہیں، اور پھر بھی اسے اپنی راہ پر چھوڑا جا سکتا ہے، تو پھر پورے بین الاقوامی قانونی نظام کا کیا فائدہ؟ اگر کنونشنز، معاہدے اور ادارے کمزوروں کو بچانے میں بے بس ہیں، تو ان کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟

خطرہ یہ ہے کہ ہم نہ صرف غزہ کی تباہی کے گواہ ہیں بلکہ اس خیال کے کھوکھلا ہونے کے بھی کہ قانون کمزوروں کی حفاظت کر سکتا ہے۔

یہ لمحہ وضاحت کا تقاضا کرتا ہے: غزہ میں نسل کشی رائے کا معاملہ نہیں بلکہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ مگر تسلیم کافی نہیں۔ الفاظ بم نہیں روکتے، بیانات بھوکے بچوں کو خوراک نہیں دیتے۔ جب تک دنیا پابندیاں نافذ کرنے، اسلحہ روکنے، تنہائی مسلط کرنے اور مداخلت کرنے کے لیے تیار نہیں، تب تک نسل کشی کو تسلیم کرنا متاثرین کے ساتھ ایک اور ظالمانہ مذاق ہے۔ اگر ہم واقعی ’’کبھی دوبارہ نہیں‘‘ کا عہد دہراتے ہیں، تو پھر غزہ کو خون میں ڈوبتے چھوڑ دینا اور قانونی تعریفوں پر بحث کرتے رہنا اس عہد کی توہین ہے۔ ’’کبھی دوبارہ نہیں‘‘ کا مطلب ہے کہ اب نہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین