مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)کم تنخواہیں، محدود سہولتیں اور نجی تعلیمی اداروں کے بلند اخراجات پاکستانیوں کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ پروٹیکٹریٹ آف امیگرنٹس کے مطابق گزشتہ تین برسوں (15 ستمبر تک) میں 28 لاکھ 94 ہزار 645 پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ ان تارکین وطن نے پروٹیکٹریٹ فیس کی مد میں 2.66 ارب روپے ادا کیے۔
باہر جانے والوں میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، اساتذہ، بینکرز، اکاؤنٹنٹس، آڈیٹرز، ڈیزائنرز اور آرکیٹیکٹس جیسے پروفیشنلز کے ساتھ ساتھ ہنر مند افراد بھی شامل ہیں جن میں پلمبر، ڈرائیور اور ویلڈر شامل ہیں۔ خواتین کی ایک نمایاں تعداد بھی اس فہرست میں موجود ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 1981 سے اگست 2025 تک سب سے زیادہ ہجرت پنجاب سے ہوئی ہے جس کی تعداد 72 لاکھ 45 ہزار 52 ہے۔ اس کے بعد خیبرپختونخوا سے 35 لاکھ 75 ہزار 954، سندھ سے 12 لاکھ 81 ہزار 495 اور آزاد جموں و کشمیر سے 8 لاکھ 13 ہزار 526 افراد نے بیرونِ ملک کا رخ کیا۔
شمالی علاقہ جات اور بلوچستان سے سب سے کم تعداد میں لوگ بیرون ملک گئے ہیں، جو بالترتیب 30 ہزار 776 اور 813,526 ہے۔
یوں 1981 سے اب تک بیرونِ ملک ہجرت کرنے والے پاکستانیوں کی مجموعی تعداد 1 کروڑ 38 لاکھ 85 ہزار 816 تک پہنچ چکی ہے۔
ڈنمارک کی وزارتِ خارجہ اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کی ایک رپورٹ کے مطابق 40 فیصد پاکستانی ملک چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
یورپ میں غیر قانونی ہجرت میں 2022 کے ابتدائی دس مہینوں میں 280 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 2023 کے اختتام تک تقریباً 8,800 پاکستانی غیر قانونی طور پر یورپ پہنچے، جن میں اکثریت نے دبئی، مصر اور لیبیا کے راستے سفر کیا۔
ہجرت کی خواہش بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ ہے، اور یہ رجحان شہری علاقوں میں دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہے۔
ماہرین کے مطابق معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام، بیروزگاری، مہنگائی، تعلیمی مواقع کی کمی اور دہشت گردی وہ بنیادی عوامل ہیں جو ہجرت کے رجحان کو بڑھا رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں خطرناک اور غیر محفوظ ہجرت کی روش میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

