منگل, فروری 17, 2026
ہومنقطہ نظرمغربی میڈیا کس طرح اسرائیلی نسل کشی اور صحافیوں کے ٹارگٹ کلنگ...

مغربی میڈیا کس طرح اسرائیلی نسل کشی اور صحافیوں کے ٹارگٹ کلنگ میں مددگار ہے
م

تحریر: مرزیہ ہاشمی

انسانی تاریخ میں کبھی ایسا منظر سامنے نہیں آیا جس میں نسل کشی کو حقیقی وقت میں اس طرح دیکھا گیا ہو جیسا آج غزہ میں ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

ہم نے اپنی اسکرینوں پر لوگوں کو سنائپرز کی گولیوں کا نشانہ بنتے دیکھا ہے، اسپتالوں کو بلڈوزروں سے مسمار ہوتے دیکھا ہے، خیموں میں رہائش پذیر مہاجرین کو زندہ جلتے دیکھا ہے، آبادی کو فاقہ کشی پر مجبور ہوتے دیکھا ہے اور نہ جانے کیا کچھ اور۔

جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ سب زیادہ تر غزہ کے فلسطینی صحافیوں کی انتھک اور جرات مندانہ کاوشوں کا نتیجہ ہے، جو جانتے ہیں کہ انہیں کسی بھی وقت قابض صہیونی فوج نشانہ بنا سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ زمین پر اصل حقائق دنیا کو دکھاتے رہتے ہیں۔

یہ ان کے لیے نہایت کٹھن کام ہے؛ تاہم، ویڈیوز کی براہ راست نشریات اور لائیو کوریج نے بالآخر فلسطین اور اس کے قبضے کے بارے میں دنیا بھر کے بیانیے کو بدلنے میں کردار ادا کیا ہے۔

اس حالیہ نسل کشی کے آغاز سے پہلے، فلسطینیوں پر ظلم اور بربریت کی ہر شکل کے جواب میں اکثر یہ جملے سننے کو ملتے تھے کہ "اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے” یا "اسرائیلیوں کے پاس کوئی چارہ نہیں کیونکہ حماس کے راکٹ معصوم اسرائیلی عوام پر برس رہے ہیں۔”

مگر اب اسرائیلی حکومت کا سب سے بڑا خوف حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ صہیونی بیانیے پر اپنی گرفت کھو رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک جنگی جرم کے انکشاف کے ساتھ اصل حقائق سامنے آرہے ہیں۔ دنیا بھر کے لوگ بیدار ہو رہے ہیں اور بہت سے لوگ اب صہیونی پروپیگنڈے پر یقین نہیں کر رہے۔

یہی چیز قابض حکومت روکنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اسی لیے فلسطینی عوام پر اس تازہ ترین نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے ہی اسرائیل نے غیر ملکی صحافیوں کو غزہ جانے کی اجازت نہیں دی۔

اسرائیلی حکومت نے بہانہ یہ بنایا کہ صحافیوں کی حفاظت مقصود ہے، لیکن اصل حقیقت یہ تھی کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ دنیا کے سامنے آئے۔

یوں زمین پر اصل صورتحال دکھانے کی بنیادی ذمہ داری فلسطینی صحافیوں کے کندھوں پر آ پڑی، جنہیں اسرائیلی حکومت مسلسل کنٹرول کرنے، بدنام کرنے یا خاموش کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی وجہ سے فلسطینی صحافیوں کو نشانہ بنانے کی دانستہ مہم نہایت بے رحمی سے جاری ہے اور وقت کے ساتھ اس میں شدت آتی جا رہی ہے۔

صحافیوں کے خونِ سرد قتلِ عام نے غزہ میں ایک نیا ہی موڑ اختیار کر لیا ہے۔ صحافیوں کو اس طرح کبھی ہدف نہیں بنایا گیا جیسا آج کیا جا رہا ہے۔

اس مضمون کے تحریر کیے جانے تک غزہ میں 242 صحافی قتل ہو چکے ہیں، جن میں سے صرف اتوار کی رات پانچ صحافی مارے گئے۔ الجزیرہ کے صحافیوں کے خیمے کو قابض افواج نے جان بوجھ کر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں عملے کے تمام پانچ افراد شہید ہوئے۔ اسرائیل نے ان قتلوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خیمے میں "حماس کا سیل” موجود تھا۔

یہ اس حکومت کی کارروائی ہے جسے مغربی طاقتوں نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ اسرائیل کو انکیوبیٹرز میں بچوں کو قتل کرنے پر پابندیاں نہیں لگائی جاتیں۔ اسے پوری آبادی کو بھوک سے مارنے پر بھی جواب دہ نہیں بنایا جاتا۔ کسی بھی طور پر اس پر دباؤ نہیں ڈالا جاتا۔

یوں گزشتہ 22 ماہ میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کا دائرہ پورے خطے تک پھیل گیا ہے، جن میں مقبوضہ مغربی کنارے، لبنان اور ایران بھی شامل ہیں، جہاں اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) کی مرکزی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس میں تین افراد شہید ہوئے۔

کیوں؟ کیونکہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ انہیں جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا۔ اگر کسی قسم کی مذمت ہوتی بھی ہے تو وہ صرف زبانی جمع خرچ تک محدود رہتی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو اپنے غیر قانونی اقدامات روکنے کے لیے کسی قسم کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

اسی طرح مغربی سیاسی مشین اور اس کا کارپوریٹ میڈیا اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی میں مکمل طور پر شریک ہیں۔ الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کے قتل کے اگلے ہی دن بی بی سی، رائٹرز اور فاکس نیوز جیسے اداروں نے اسرائیل کے ان دعووں کو دہرانا شروع کر دیا کہ انس حماس کے دہشت گرد سیل کے سربراہ تھے یا وہ کسی وقت حماس کے میڈیا آفس کے ساتھ کام کر چکے تھے۔

بجائے اس کے کہ وہ اپنے صحافی ساتھی کے قتل پر اظہارِ مذمت کرتے، بی بی سی، جو دنیا کا سب سے بڑا نشریاتی ادارہ ہونے پر فخر کرتا ہے، نے محض اسرائیلی پروپیگنڈے کو دہرانے پر اکتفا کیا۔

یہی وجہ ہے کہ پچھلے 22 ماہ میں غزہ میں 238 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں اور ان کے مغربی ممالک میں موجود ساتھیوں نے اس پر کچھ نہیں کیا بلکہ الٹا صہیونی حکومت کے جھوٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ یہ نام نہاد صحافی دراصل صہیونی بیانیے کے دہرائے جانے والے ترجمان ہیں۔

بی بی سی، رائٹرز، نیویارک ٹائمز یا دیگر میڈیا اداروں نے اسرائیل سے یہ سوال کیوں نہیں کیا کہ انہیں غزہ میں اپنے صحافی بھیجنے سے کیوں روکا گیا؟

ایسے صحافی کو کیوں بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو قتل کیا جا چکا ہو، جب تک کہ آپ بھی اسرائیلی حکومت کی طرح یہ نہیں چاہتے کہ حقیقت دنیا کے سامنے آئے؟

کیا فلسطین اور اسرائیل کے اصل بیانیے کو سامنے لانا آپ کے لیے بھی مہلک ہے؟ آپ سب نسل کشی میں شریک ہیں اور سچائی کو دبانے کی کوششیں اب بے سود ہیں کیونکہ بہت زیادہ لوگ بیدار ہو چکے ہیں۔

بیانیہ بدل گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ فلسطین کوئی ایسی سرزمین نہیں تھی جو بغیر آبادی کے تھی، جیسا کہ انہیں پڑھایا گیا تھا، اور نہ ہی فلسطینیوں نے اپنی زمین دینے پر کبھی رضا مندی ظاہر کی تھی۔

وہ نکبہ جس کا آغاز ہوا تھا، کبھی ختم نہیں ہوئی اور اس میں شریک تمام فریق آج بے نقاب ہو رہے ہیں، کیونکہ دنیا بیدار ہو رہی ہے اور نسل کشی اور اس کے حامیوں سے نفرت کا اظہار کر رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین