منگل, فروری 17, 2026
ہوممضامینکس طرح جنوبی کوریائی بچوں کو جھوٹا یتیم قرار دے کر زبردستی...

کس طرح جنوبی کوریائی بچوں کو جھوٹا یتیم قرار دے کر زبردستی بیرون ملک گود دیا گیا
ک

لیلا نیزیروِوِچ

لیلا نیزیروِوِچ نے انکشاف کیا ہے کہ کس طرح ہزاروں جنوبی کوریائی بچوں کو ریاستی پشت پناہی والے ایک فریب آمیز نظام کے تحت جھوٹا "یتیم” قرار دے کر بیرون ملک گود لینے کے نام پر اسمگل کیا گیا۔

دہائیوں تک، ہزاروں جنوبی کوریائی بچوں کو جو بیرون ملک گود دیے گئے، ایک ہی کہانی سنائی جاتی رہی: کہ انہیں چھوڑ دیا گیا تھا، وہ ناپسندیدہ تھے، یا غربت نے والدین کو مجبور کر دیا تھا۔ گود لینا ان کے لیے نجات اور ان مشکلات سے بچاؤ کے طور پر پیش کیا گیا جنہیں ان کے گھرانے سہہ نہیں سکتے تھے۔

مگر آج سامنے آنے والے شواہد اور بیانات کہیں زیادہ تاریک حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں: ان میں سے اکثر بچے کبھی یتیم تھے ہی نہیں۔ انہیں یتیم بنایا گیا—ایک ریاستی پشت پناہی والے نظام کے ذریعے جس نے خاندانوں کو توڑا اور جھوٹے بہانوں کے تحت بچوں کو بیرون ملک اسمگل کیا۔

تنہائیوں بھرا بچپن

جب جنگ کیونگ سوک چار برس کی تھیں، تو انہیں یاد ہے کہ وہ اکیلی کنڈرگارٹن جایا کرتی تھیں اور دیکھتی تھیں کہ دوسرے بچے اپنے والدین کے ہاتھ تھامے چل رہے ہیں۔ تنہائی کا یہ احساس ان کے ساتھ رہا، یہاں تک کہ ایک دن گرنے سے وہ لہو لہان ہوگئیں۔

خوف نے انہیں جکڑ لیا، درد کا نہیں بلکہ اپنی ماں کے غصے کا۔ اور وہ درست سوچ رہی تھیں۔ ان کی ماں نے انہیں ڈانٹا، زخم پر مرہم رکھا اور پھر ایک ذلت آمیز سزا سوچی: چھوٹی سی سوک کو مجبور کیا کہ وہ اسکول تک فیملی کار کے ساتھ ساتھ پیدل چلے جبکہ ماں آہستہ آہستہ گاڑی چلاتے ہوئے کھڑکی سے چیختی رہیں۔

آج پچاس سال کی سوک کے لیے اس دن کی تذلیل اس انکشاف کے سامنے کچھ بھی نہیں کہ ان کی ناروے منتقلی غیرقانونی تھی۔ 1969 میں پیدا ہونے والی سوک کو 1970 میں اپنی ماں کی موت کے بعد بغیر والد کی اجازت کے بیرون ملک بھیج دیا گیا۔

ناروے میں انہوں نے ایک ایسے گھر میں پرورش پائی جہاں نشے کے مسئلے کے باعث وہ شدید غفلت اور بدسلوکی کا شکار رہیں۔ برسوں بعد انہیں پتا چلا کہ ان کے والد نے آدھی دہائی تک انہیں دیوانہ وار تلاش کیا تھا، مگر ان کی وفات ہوگئی۔ 18 برس کی عمر میں جب وہ کوریا میں اپنی بہنوں اور خاندان سے ملیں تو یہ ایک فیصلہ کن لمحہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ لمحہ انہیں بے حد چھو گیا اور آج بھی چھوتا ہے۔ اس وقت تک انہیں یقین دلا دیا گیا تھا کہ ان کا کوئی خاندان نہیں۔

آج وہ ناروے کی حکام سے اپنی گود لینے کی حیثیت کو غیرقانونی قرار دلوانے، معاوضہ، معافی اور اپنی جنوبی کوریائی شہریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔

جھوٹے ریکارڈز کی دریافت

اوما فید کے لیے سچ ایک فون کال کی صورت میں اوسلو میں سامنے آیا۔ انہیں 1983 میں محض پانچ ماہ کی عمر میں گود لیا گیا تھا، اور ہمیشہ یہی کہانی سنائی گئی کہ انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔

مگر جب دہائیوں بعد ان کے حیاتیاتی والدین کا سراغ ملا تو حقیقت کھل کر سامنے آئی: ان کی نانی نے والدہ کی بیماری کے دوران انہیں زبردستی دے دیا تھا۔ ان کی والدہ تپ دق کے علاج کے لیے اسپتال میں داخل تھیں۔ تباہ حال والدین اور بھائی برسوں تک انہیں تلاش کرتے رہے، مگر جھوٹے ریکارڈز انہیں یہ باور کراتے رہے کہ بچی کو سیول کے اندر ہی منتقل کر دیا گیا تھا، حالانکہ حقیقت میں وہ بیرون ملک بھیجی جا چکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی فائل درست نہیں تھی بلکہ جعلی تھی۔ وہ ترک نہیں کی گئی تھیں، ان کی ماں نے انہیں کبھی رضامندی سے نہیں دیا۔ بلکہ ان کی نانی نے انہیں اغوا کرکے بیچ دیا۔

فید اب غیرقانونی گود لینے کے خلاف جدوجہد کی ایک نمایاں آواز ہیں اور اپنے سرگرم عمل کی وجہ سے ناروے کا معتبر "زولا پرائز” جیت چکی ہیں۔

فریب کا نظام

سوک اور فید کی کہانیاں الگ تھلگ سانحات نہیں ہیں۔ جنوبی کوریا کی ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن نے شواہد اکٹھے کیے ہیں کہ اسپتالوں، فلاحی مراکز اور گود لینے کی ایجنسیوں نے 1960 سے 1980 کی دہائی تک منظم سازش کے تحت ماؤں سے ان کے بچے چھینے۔

کم از کم دو لاکھ بچے، زیادہ تر غیرشادی شدہ یا غریب ماؤں کے، اس عرصے میں بیرون ملک بھیجے گئے، جن میں بڑی تعداد اسکینڈے نیویا، امریکہ اور آسٹریلیا کی تھی۔ ریکارڈ جعلی بنائے گئے، خاندانوں کو گمراہ کیا گیا، اور کئی صورتوں میں والدین کو بتایا گیا کہ ان کے نومولود بچے پیدائش کے فوراً بعد مر گئے تھے۔

انسانی حقوق کے وکیل ماریئس رائیکراس کا کہنا ہے کہ یہ صنعت سماجی بدنامی اور ریاستی حکمتِ عملی دونوں سے چلتی رہی۔ ان کے مطابق جنوبی کوریا کی حکومتوں نے گود لینے کو معاشی ترقی کا ذریعہ سمجھا۔ ناروے اور دیگر مغربی حکومتیں جانتی تھیں کہ غیرقانونی گود لینے کے واقعات ہو رہے ہیں مگر خاموش رہیں۔ ان کے الفاظ میں، یہ انسانی اسمگلنگ تھی۔

سیاسی احتساب

یہ انکشافات حکومتوں کو اپنی شراکت پر جواب دہ بنا رہے ہیں۔ ناروے، جو کوریائی بچوں کا بڑا مرکز رہا ہے، یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں بارہا سزا یافتہ رہا ہے کہ اس نے مقامی گود لینے کے معاملات میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی۔ اب اس پر عالمی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگ رہا ہے۔

رائیکراس کے مطابق یہ یورپ کے بدترین انسانی حقوق کے اسکینڈلز میں سے ایک ہے۔ ان کے بقول حکومتوں اور گود لینے کی ایجنسیوں نے جان بوجھ کر یہ سب ہونے دیا۔

2023 میں ناروے نے بیرون ملک گود لینے پر باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا، جب مقامی میڈیا نے جعلی پیدائش کے سرٹیفکیٹس اور بچوں کے "بیچے جانے” کے معاملات بے نقاب کیے۔ اگرچہ ناروے نے گود لینے کے قوانین سخت کیے ہیں، مگر مکمل پابندی کی آوازوں کو رد کیا ہے۔ اس نے تھائی لینڈ، تائیوان، مڈغاسکر اور جنوبی افریقہ سے گود لینے معطل کیے ہیں، لیکن جنوبی کوریا، کولمبیا اور بلغاریہ کے ساتھ محدود معاہدے اب بھی جاری رکھے ہیں۔

سیاست دان سلجے ہیئمدل جیسے افراد سخت تر احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور کچھ شاید انسانی اسمگلنگ کے شکار بھی ہوئے ہیں۔ ہمیں انہیں شناخت کرنا، معاوضہ دینا اور ان غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔

دیگر نوردک ممالک بھی اپنا کردار پرکھ رہے ہیں۔ ڈنمارک کی واحد گود لینے کی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جعلی دستاویزات کے انکشاف کے بعد بین الاقوامی گود لینے کا عمل ختم کرے گی۔ سویڈن کی واحد گود لینے کی ایجنسی نے بھی جنوبی کوریا سے گود لینے کو معطل کر دیا ہے، جب ریکارڈز میں جعل سازی کے الزامات سامنے آئے۔

عالمی اسکینڈل

جو کہانیاں پہلے خاموشی سے بیان کی جاتی تھیں، اب ایک عالمی جرم کے طور پر تسلیم کی جا رہی ہیں۔ کئی گود لیے گئے افراد کے لیے یہ انکشاف ایک طرف آزادی کا باعث ہے اور دوسری طرف دل توڑ دینے والا، کیونکہ وہ کبھی چھوڑے نہیں گئے تھے بلکہ ان سے دھوکہ کیا گیا—حکومتوں، ایجنسیوں اور اس نظام کی جانب سے جس نے انہیں بچپن میں بیچ ڈالا۔

رائیکراس کے بقول یہ خیرات نہیں تھی، یہ اسمگلنگ تھی، جو سب کی آنکھوں کے سامنے جائز قرار دی گئی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین