لکی مروت(مشرق نامہ): پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بنوں اور لکی مروت میں خفیہ اطلاعات پر مبنی آپریشنز کے دوران درجنوں دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ بنوں کے بکہ خیل علاقے میں جنگی طیاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانے نشانہ بنائے، جس سے متعدد دہشت گرد مارے گئے اور زخمی ہوئے۔ ایک کمیونٹی ہال اور اسکول جو دہشت گردوں نے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کرنے کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا تھا، ان کارروائیوں میں تباہ کر دیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے لکی مروت اور بنوں کے علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 31 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ سرکاری بیان میں فضائی حملوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ کارروائیاں خوارج (کالعدم تحریک طالبان پاکستان) کی موجودگی کی اطلاعات پر کی گئیں۔ لکی مروت میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 14 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ بنوں میں ایک اور آپریشن میں مزید 17 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ باقی ماندہ دہشت گردوں کو بھی ختم کیا جا سکے۔
ادھر حکام نے بتایا کہ خوارج کی نقل و حرکت اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں تھیں، جس پر سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں شروع کیں۔
کیچ دھماکہ: 5 جوان شہید
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایک دھماکے میں پانچ سیکیورٹی اہلکار، بشمول ایک کپتان، شہید ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق مند علاقے میں پاک-ایران سرحد کے قریب دہشت گردوں نے ریموٹ کنٹرول بم نصب کیا تھا جو سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنانے کے لیے اڑایا گیا۔ اس دھماکے میں گاڑی مکمل تباہ ہوگئی اور تمام پانچ اہلکار موقع پر شہید ہوگئے۔
شہداء میں کیپٹن وقیر کاکڑ، نائیک جنید، نائیک اسمت، لانس نائیک خان محمد اور سپاہی ظہور احمد شامل ہیں۔
واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کر لی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا:بلوچستان کا ایک اور بہادر بیٹا، کیپٹن وقیر کاکڑ، اپنے عوام اور اپنے پیارے پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوا۔ ان کی قربانی ہمیشہ بہادری اور عزت کا روشن باب رہے گی۔ بلوچستان اور پاکستان انہیں کبھی فراموش نہیں کریں گے۔

