واشنگٹن(مشرق نامہ): ایک بڑی دو جماعتی پیش رفت کے طور پر امریکی قانون سازوں نے پاکستان فریڈم اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ (H.R. 5271) متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد ان پاکستانی حکام پر پابندیاں عائد کرنا ہے جو انسانی حقوق کی پامالیوں اور جمہوریت کو کمزور کرنے والے اقدامات کے ذمہ دار ہیں۔
یہ بل امریکی ایوان نمائندگان کی ذیلی کمیٹی برائے جنوبی و وسطی ایشیا کے چیئرمین اور مشی گن سے ریپبلکن پارٹی کے رکن بل ہائزنگا نے پیش کیا، جب کہ اسے کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹ رہنما سڈنی کملاگر-ڈوو نے مشترکہ طور پر آگے بڑھایا۔ اس کے ساتھ شریک اراکین میں جان مولینار (ریپبلکن)، جولی جانسن (ڈیموکریٹ) اور جیفرسن شریو (ریپبلکن) شامل ہیں۔ اضافی معاونین میں رچ مک کارمک (ریپبلکن)، جیک برگمین (ریپبلکن)، جوآکین کاسترو (ڈیموکریٹ)، اور مائیک لاولر (ریپبلکن) شامل ہیں۔
یہ بل امریکی صدر کو گلوبل میگنٹسکی ہیومن رائٹس اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ کے تحت پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے، جو ان افراد کو ہدف بناتا ہے جو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا کرپشن کے ذمہ دار ہوں۔ اس موقع پر یہ اختیار پاکستان کی حکومت، فوج یا سیکیورٹی فورسز کے موجودہ یا سابق اعلیٰ عہدیداروں پر لاگو ہو سکتا ہے۔
قانون سازی میں پاکستان میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے اور جمہوری اداروں اور انسانی حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
یہ بل مزید جائزے کے لیے ایوان نمائندگان کی خارجہ امور اور عدلیہ کمیٹیوں کو بھیج دیا گیا ہے۔ یہ بل ہاؤس ریزولوشن 901 (H.Res. 901) پر مبنی ہے، جو جون 2024 میں دو جماعتی بھاری اکثریت سے منظور ہوا تھا۔ اس قرارداد میں پاکستان میں جمہوریت کے لیے مضبوط حمایت کا اظہار، آزاد و منصفانہ انتخابات کے تحفظ کا مطالبہ، اور امریکی انتظامیہ پر زور دیا گیا تھا کہ وہ انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور آزادی اظہار کے فروغ کے لیے پاکستانی حکومت کے ساتھ رابطہ رکھے۔
بل پر بات کرتے ہوئے کانگریس مین ہائزنگا نے کہا:امریکہ خاموش تماشائی نہیں بنے گا جب پاکستان کی حکومت، فوج یا سیکیورٹی فورسز کے موجودہ یا سابق عہدیدار کھلے عام انسانی حقوق کی پامالی کرتے ہیں یا ان کو کم تر ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان فریڈم اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ ایک دو جماعتی اقدام ہے، جس کا مقصد پاکستان کے عوام کو تحفظ دینا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ نہ تو جمہوری عمل اور نہ ہی آزادی اظہار کو دبایا جا سکے۔
ڈیموکریٹ رہنما کملاگر-ڈوو نے زور دیا:جمہوریت کو فروغ دینا اور انسانی حقوق کا تحفظ امریکی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصول ہیں اور انہیں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔ ایسے وقت میں جب جمہوریت پیچھے جا رہی ہے اور دنیا بدامنی کا شکار ہے، امریکہ کو ان اقدار کا دفاع ملک کے اندر اور بیرون ملک کرنا ہوگا اور جو انہیں نقصان پہنچائیں، انہیں جوابدہ ٹھہرانا ہوگا۔
ٹیکساس سے ڈیموکریٹ رہنما جولی جانسن نے کہا:جب ہم ان عہدیداروں کو جوابدہ ٹھہراتے ہیں جو آزاد و منصفانہ انتخابات کو نقصان پہنچاتے ہیں یا بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں تو ہم ایک مضبوط پیغام دیتے ہیں: جمہوریت پر حملہ کرنے والوں کو نتائج بھگتنا ہوں گے، انہیں دنیا کے سامنے چھوٹ نہیں ملے گی۔
پاکستانی نژاد امریکیوں کی کاوشیں
پاکستانی نژاد امریکی وکالتی گروپوں نے فریڈم اینڈ اکاؤنٹیبلٹی بل کو آگے بڑھانے اور H.Res. 901 کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستانی امریکن پبلک افیئرز کمیٹی کے سابق صدر اسد ملک نے کہا:یہ قانون پاکستان کے عوام کو بااختیار بناتا ہے اور یہ یقینی بناتا ہے کہ انسانی حقوق، آزادی اظہار اور جمہوریت کی خلاف ورزی کرنے والے جوابدہ ہوں اور انہیں مناسب نتائج بھگتنا پڑیں۔
فرسٹ پاکستان گلوبل کے ڈاکٹر ملک عثمان نے کہا:یہ پاکستانی ڈائسپورا کی انتھک کاوشوں کا ثبوت ہے کہ کانگریس میں وکالت اور ہماری کمیونٹیز میں مقامی سطح پر متحرک مہم کے ذریعے یہ سنگ میل بل ممکن ہوا۔ یہ حقیقی آزادی کی جانب ایک بڑا قدم ہے — 25 کروڑ پاکستانی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر جمہوریت، انسانی حقوق اور تمام سیاسی قیدیوں بشمول عمران خان کی رہائی کے لیے۔
مبصرین کے مطابق اس بل کی دو جماعتی حمایت اور H.Res. 901 کے ساتھ مطابقت اس کے کانگریس میں آگے بڑھنے کے امکانات کو بڑھاتی ہے۔
اسد ملک نے مزید کہا:یہ محض ایک بل نہیں ہے۔ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ امریکی کانگریس سن رہی ہے، اور پاکستانی نژاد امریکی اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق بحال نہیں ہو جاتے، جن میں وزیر اعظم عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔
اکاؤنٹیبلٹی بل کے ذریعے امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا ہے اور ان لوگوں کو جوابدہ ٹھہرانے کا عندیہ دیا ہے جو ان اقدار کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

