منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیسوڈان میں الفاشر کے محاصرے کے دوران بچے جانوروں کا چارہ کھانے...

سوڈان میں الفاشر کے محاصرے کے دوران بچے جانوروں کا چارہ کھانے پر مجبور
س

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)سوڈان کے شہر الفاشر میں 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد عام شہری قحط اور بمباری کے دہری خطرے میں پھنسے ہوئے ہیں، کیونکہ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے محاصرے کو مزید سخت کر دیا ہے۔

شہریوں کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں: شہر میں رہ کر بھوک اور بمباری کا سامنا کریں یا نکلنے کی کوشش میں عصمت دری اور قتل کے خطرے سے دوچار ہوں۔ شہر کا آخری فعال اسپتال اب تک 30 سے زائد بار گولا باری کا نشانہ بن چکا ہے، جہاں روزانہ 30 سے 40 شدید غذائی قلت کے شکار بچے پہنچتے ہیں۔ لیکن علاج کے لیے بس جانوروں کا چارہ، جسے مقامی زبان میں “امباز” کہا جاتا ہے، میسر ہے۔ یہ چارہ بھی بارشوں کے موسم میں فنگس سے آلودہ ہونے کے خطرے سے بھرا رہتا ہے۔

ڈاکٹر سیلک، جو علاج کے دوران زار و قطار رو پڑے، نے کہا:لوگ ہمیں بھول گئے ہیں، خدایا! یہ بہت دردناک کہانی ہے۔

شہر قید و بند کی جکڑ میں

تقریباً ڈیڑھ سال سے الفاشر مغربی دارفور کا سب سے خوفناک میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ پیراملٹری فورسز نے بھوک کے ذریعے شہر کو جھکانے کی کوشش میں اس کے گرد 32 کلومیٹر طویل مٹی کی دیوار کھڑی کر دی ہے۔

اپریل 2024 میں، قحط زدہ زمزم کیمپ پر RSF کے حملے کے بعد 5 لاکھ سے زائد افراد الفاشر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اس حملے میں 300 سے 1,500 افراد مارے گئے، جسے اقوام متحدہ نے جنگ کے بدترین قتلِ عام میں سے ایک قرار دیا۔

سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق، مئی 2024 میں RSF نے شہر کو دیوار سے گھیرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا، اور اگست 2025 تک یہ تعمیر جاری رہی۔

مہنگائی، بھوک اور بیماری

محاصرے کے باعث شہر میں خوراک کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ایک کلو پاستا کی قیمت 73 ڈالر ہو گئی ہے، جو عام قیمت سے دس گنا زیادہ ہے۔ امدادی کارکن طٰہ خاطر کے مطابق، صرف دو ہفتوں میں 14 بچے بھوک سے مر چکے ہیں اور ہیضے کی وبا بھی پھیل رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے خوراک کے قافلے پچھلے ایک سال سے شہر میں داخل نہیں ہو پائے۔ جون میں 15 ٹرکوں پر مشتمل قافلے پر ڈرون حملے میں 5 امدادی کارکن مارے گئے۔ اگست میں ایک اور حملے میں 3 ٹرک تباہ ہو گئے۔ یہ واضح نہیں کہ حملے کس فریق نے کیے۔

ہسپتال نشانے پر

جنگ سے پہلے الفاشر میں تقریباً 200 طبی مراکز تھے، لیکن اب صرف ایک اسپتال، سعودی ہسپتال، باقی بچا ہے۔ ڈاکٹرز بمباری اور بھوک میں محصور ہو کر علاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جنوری میں ایک ڈرون میزائل نے اسپتال کے ایک وارڈ کو نشانہ بنایا، جس میں 70 مریض اور طبی عملہ مارے گئے۔

اب ڈاکٹرز فضائی حملوں کے دوران خندقوں میں چھپنے پر مجبور ہیں جبکہ مریض جانوروں کے چارے پر زندہ ہیں۔ ڈاکٹر سلیمان کے مطابق، یہاں اسپتال، مریض اور ڈاکٹر سب ایک ساتھ موت کے نرغے میں ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین