منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیجرمنی طالبان کے ساتھ بڑے معاہدے کا خواہاں ہے

جرمنی طالبان کے ساتھ بڑے معاہدے کا خواہاں ہے
ج

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)برلن ایک ایسا معاہدہ کرنے پر کام کر رہا ہے جس کے تحت افغان شہریوں کو واپس ان کے ملک بھیجنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے، جرمن اخبار بلڈ نے اطلاع دی ہے۔ میڈیا کے مطابق جرمن حکام قطر میں طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کر رہے ہیں اور کابل میں ایک وفد بھیجنے کا منصوبہ بھی رکھتے ہیں۔

2021 میں، جب طالبان نے امریکہ کے اچانک انخلا کے بعد افغانستان میں اقتدار سنبھال لیا تھا، جرمنی نے وہاں افغان شہریوں کی جبری واپسی پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ پابندی گزشتہ سال ختم کر دی گئی، لیکن جبری واپسی کے واقعات محدود رہے۔ اگست 2024 کے آخر میں برلن نے ایک چارٹر پرواز کے ذریعے 28 افغان شہریوں کو واپس بھیجا اور جولائی 2025 میں مزید 81 افراد کو۔ اخبار کے مطابق یہ سب افراد مجرم قرار دیے جا چکے تھے۔

اب حکومت چاہتی ہے کہ انخلا کو "نمایاں طور پر آسان، زیادہ باقاعدہ اور بڑے پیمانے پر” بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت چارٹر پروازوں کے بجائے طے شدہ فضائی پروازوں کے ذریعے افغان شہریوں کو واپس بھیجنے کی خواہش مند ہے۔ بلڈ کے مطابق ستمبر کے اوائل میں جرمن وزارت داخلہ کا ایک وفد قطر میں طالبان نمائندوں سے ملاقات کر چکا ہے، اور مزید بات چیت کے لیے کابل میں بھی وفد بھیجنے کا منصوبہ ہے۔

ابھی تک جرمن حکام نے طالبان کی عبوری حکومت کے ساتھ کسی بھی سرکاری رابطے کی تصدیق نہیں کی اور اس حوالے سے کوئی تبصرہ بھی نہیں کیا۔

افغانستان کے لیے انخلا کی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ اگست 2024 میں جرمنی کے شہر سولِنگن میں ایک اسٹریٹ فیسٹیول پر چاقو حملے کے بعد کیا گیا، جس میں تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے میں ایک شامی شہری کو گرفتار کیا گیا تھا۔

بلڈ کے مطابق افغان شہری بھی جرمنی میں بڑی تعداد میں جرائم میں ملوث ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015 سے 2024 کے دوران پولیس نے 108,409 سنگین جرائم درج کیے جن میں کم از کم ایک افغان شہری شامل تھا۔

اخبار کے مطابق 2024 کے آخر تک تقریباً 4 لاکھ 61 ہزار افغان نژاد افراد جرمنی میں مقیم تھے، جن میں سے 3 لاکھ 47 ہزار 600 پناہ گزین تھے۔ جرمنی کے وفاقی دفتر برائے ہجرت و پناہ (BAMF) نے اس سال کی گرمیوں میں یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ تقریباً 11,500 افغان شہری ایسے ہیں جن کے پاس ملک میں رہنے کا قانونی حق نہیں اور وہ جبری واپسی کے زمرے میں آتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین