منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیآج عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس میں 50 ممالک شریک ہوں گے

آج عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس میں 50 ممالک شریک ہوں گے
آ

دوحہ(مشرق نامہ): قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اتوار کو کہا کہ اسرائیل کے "اقدامات” دوحہ کی جنگِ غزہ کے خاتمے کے لیے مصر اور امریکہ کے ساتھ جاری ثالثی کوششوں کو نہیں روکیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ "دوہرا معیار” ختم کرے اور اسرائیل کو اس کے "جرائم” پر سزا دے۔

انہوں نے یہ بات عرب و اسلامی ممالک کے ہنگامی سربراہی اجلاس سے ایک دن قبل کہی، جو قطر نے اس وقت طلب کیا جب اسرائیل نے دوحہ میں حماس کے امن مذاکرات کاروں پر بے مثال فضائی حملہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا:
"وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری دوہرے معیار کو ترک کرے اور اسرائیل کو ان تمام جرائم کی سزا دے جو اس نے کیے ہیں۔ اسرائیل کو جان لینا چاہیے کہ ہمارے برادر فلسطینی عوام پر جاری یہ نسل کش جنگ، جس کا مقصد انہیں اپنی سرزمین سے بے دخل کرنا ہے، کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔”

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق پیر کو ہونے والے عرب و اسلامی رہنماؤں کے اجلاس میں "اسرائیلی حملے پر ایک مسودہ قرارداد” پر غور کیا جائے گا۔

57 رکنی تنظیم تعاونِ اسلامی (OIC) کے تحت منعقد ہونے والے اس سربراہی اجلاس میں مسلم دنیا کے سربراہانِ مملکت و حکومت اور اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی بھی اجلاس میں شرکت متوقع ہے، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو وزرائے خارجہ کے اجلاس میں قرارداد کے مسودے کی تیاری میں سرگرم حصہ لیا۔

یہ اجلاس پاکستان کی شراکت سے طلب کیا گیا ہے تاکہ اسرائیلی حملے اور فلسطین کی سنگین صورتحال پر مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جا سکے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے غزہ پر قبضے، مغربی کنارے میں بستیوں کے پھیلاؤ اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے اقدامات کے بعد یہ اجلاس انتہائی اہم ہے۔

سفارتکاروں کے مطابق، 50 سے زائد او آئی سی رکن ممالک کی دوحہ اجلاس میں شرکت متوقع ہے، جہاں رہنما اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں فلسطینی ریاست کے معاملے کو آگے بڑھانے پر بھی بات کر سکتے ہیں۔

شرکاء میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی اور ترک صدر رجب طیب اردوان شامل ہوں گے۔ فلسطینی صدر محمود عباس اتوار کو دوحہ پہنچ گئے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی شرکت غیر یقینی ہے، تاہم وہ رواں ہفتے دوحہ کے دورے پر آئے تھے۔

اجلاس سے توقع ہے کہ قطر کے حق میں بھرپور حمایت کا اظہار کیا جائے گا۔ قرارداد کے مسودے میں اسرائیلی حملے کو "عدم استحکام پیدا کرنے والی کشیدگی” قرار دے کر مسترد کیا گیا ہے اور اسرائیل کے "خطے میں نیا نقشہ مسلط کرنے کے منصوبوں” کی مخالفت کی گئی ہے۔

البتہ، خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، مسودے میں اسرائیل کے خلاف کسی سفارتی یا معاشی اقدام کا ذکر نہیں ہے۔ تاہم پیر کے اجلاس سے قبل اس میں تبدیلی ممکن ہے۔

اسرائیلی حملے نے امریکہ کے اتحادی خلیجی عرب ممالک کو بھی مزید قریب کر دیا ہے، جس سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا کہ یہ اجلاس اس بات کا پیغام ہے کہ "قطر اکیلا نہیں ہے … عرب و اسلامی ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین