منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیممدانی کا اعلان: نیویارک کے میئر منتخب ہونے پر نیتن یاہو کو...

ممدانی کا اعلان: نیویارک کے میئر منتخب ہونے پر نیتن یاہو کو گرفتار کیا جائیگا
م

نیویارک (مشرق نامہ) – نیویارک کے میئرل انتخاب میں ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے وارنٹ کی بنیاد پر گرفتار کرائیں گے اگر وہ شہر میں داخل ہوئے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں ممدانی نے کہا کہ نیتن یاہو ’’جنگی مجرم‘‘ ہیں جو غزہ میں نسل کشی کے ذمہ دار ہیں، اور اس عدالت کے نومبر 2024 میں جاری کیے گئے گرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد کرانا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی خواہش ہے کہ نیویارک ایسا شہر بنے جو بین الاقوامی قانون کے احترام کے ساتھ کھڑا ہو۔

ممدانی، جو ایک ڈیموکریٹک سوشلسٹ اور ریاستی اسمبلی کے رکن ہیں، فی الحال انتخابی دوڑ میں سبقت لے جا رہے ہیں۔ نیویارک میں پولیس کمشنر براہِ راست میئر کے ماتحت ہوتا ہے، تاہم ماہرین قانون کے مطابق ایسی گرفتاری عملی طور پر ممکن نہیں اور اس سے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست تصادم کا خطرہ پیدا ہوگا، کیونکہ امریکہ نہ صرف آئی سی سی کا رکن نہیں بلکہ اس کی عمل داری کو تسلیم بھی نہیں کرتا۔

وسیع تر تناظر

رواں برس کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالت پر پابندیاں عائد کر دی تھیں اور مؤقف اپنایا تھا کہ اس کا دائرہ اختیار نہ تو امریکہ پر ہے اور نہ ہی ’’اسرائیل‘‘ پر۔ جولائی میں نیتن یاہو نے ممدانی کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کوئی فکر نہیں اور مزاحیہ انداز میں کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ سفر کریں گے تاکہ دیکھا جائے کہ کیا واقعی انہیں گرفتار کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ممدانی کو ’’سنجیدہ ہونا چاہیے ورنہ وہ بڑے مسائل میں پڑ جائیں گے‘‘۔

ممدانی کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نیویارک میں عوامی رائے فلسطینیوں کے حق میں بڑھتی جا رہی ہے اور جاری اسرائیلی جارحیت کو وسیع پیمانے پر نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے۔

ایمرسن کالج، PIX11 اور دی ہل کے حالیہ سروے کے مطابق ممدانی اپنے حریف سابق گورنر اینڈریو کومو پر 15 پوائنٹس کی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ کومو ڈیموکریٹک پرائمری میں شکست کے بعد آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں۔ ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا اور موجودہ میئر ایرک ایڈمز، جو آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں، دونوں واضح طور پر پیچھے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں نے انتخابات کو ممدانی اور کومو کے درمیان دو طرفہ مقابلے تک محدود کرنے کے لیے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایڈمز اور سلیوا کو انتظامیہ میں عہدے دینے کی پیشکشیں زیرِ غور ہیں۔ ٹائمز اور سینا یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق اگر ایڈمز اور سلیوا دوڑ سے باہر ہو جائیں تو ممدانی کی برتری صرف چار پوائنٹس تک محدود رہ جائے گی۔ تاہم دونوں امیدواروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ میدان میں موجود رہیں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین