کراچی(مشرق نامہ):کراچی کے ایک نجی اسپتال میں 29 سالہ شخص نیگلیریا فاؤلری، جسے ’دماغ کھانے والا جرثومہ‘ بھی کہا جاتا ہے، کے باعث جاں بحق ہوگیا۔ رواں سال سندھ میں اس جرثومے سے ہونے والی یہ پانچویں ہلاکت ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق متوفی ضلع سینٹرل کا رہائشی تھا اور 7 ستمبر کو بیماری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ انہیں 11 ستمبر کو اسپتال لایا گیا لیکن اسی روز انتقال کر گئے۔
12 ستمبر کو ہونے والے لیبارٹری ٹیسٹ میں نیگلیریا فاؤلری کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص نے کسی قسم کی تفریحی آبی سرگرمی، جیسے تیراکی، میں حصہ نہیں لیا تھا بلکہ صرف نلکے کے پانی کو پینے اور نہانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ میں نیگلیریا کے بڑھتے ہوئے خطرے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ صرف ابلا ہوا یا مناسب کلورین ملا پانی استعمال کریں اور پانی ذخیرہ کرنے کی تمام ٹینکیوں میں کلورینیشن کو یقینی بنائیں تاکہ مزید اموات سے بچا جا سکے۔

