منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیقطر میں عرب مسلم رہنماؤں کا اجلاس، اسرائیلی حملے کی مذمت

قطر میں عرب مسلم رہنماؤں کا اجلاس، اسرائیلی حملے کی مذمت
ق

دوحہ (مشرق نامہ) – قطر نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ وہ عرب اور مسلم رہنماؤں کا سربراہی اجلاس منعقد کرے گا، جس کا مقصد دوحہ میں حماس حکام پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرنا اور خلیجی ریاست کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔

قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ پیر کو ہونے والے اجلاس میں "اسرائیلی حملے کے خلاف قرارداد کے مسودے” پر غور کیا جائے گا، جسے اتوار کو وزارتی سطح پر تیار کیا جائے گا۔

انہوں نے سرکاری خبر رساں ایجنسی قنا کے حوالے سے کہا کہ یہ اجلاس قطر کے خلاف اسرائیل کی بزدلانہ جارحیت کے مقابلے میں وسیع عرب اور اسلامی یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے، اور اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کو یکسر مسترد کرتا ہے۔

اجلاس میں شریک رہنماؤں میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان اور عراقی وزیرِ اعظم محمد شیاع السودانی شامل ہوں گے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان بھی دوحہ میں موجود ہوں گے، تاہم اجلاس میں ان کی باضابطہ شرکت کی تصدیق باقی ہے۔

اسرائیل نے منگل کو دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا، جس میں حماس کے پانچ ارکان اور ایک قطری سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اس حملے پر عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی، حتیٰ کہ ان خلیجی بادشاہتوں کی جانب سے بھی جو امریکہ کے اتحادی ہیں، جبکہ امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا حمایتی سمجھا جاتا ہے۔

قطر، جو خطے میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ رکھتا ہے، امریکہ اور مصر کے ساتھ غزہ جنگ میں ثالثی کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اجلاس اسرائیل کو ایک واضح پیغام دینے کے لیے بلایا گیا ہے۔

کنگز کالج لندن کے ماہر آندریاس کریگ نے کہا کہ اسرائیلی حملے کو خلیج میں "خودمختاری کی بے مثال خلاف ورزی اور سفارت کاری پر حملہ تصور کیا گیا ہے، اور اجلاس اس بات کا اشارہ ہے کہ "ایسی جارحیت کو معمول نہیں بنایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ واضح سرخ لکیریں کھینچی جائیں اور اسرائیل کے اس تاثر کو ختم کیا جائے کہ وہ بلا روک ٹوک کارروائی کر سکتا ہے۔ فلسطین کے حوالے سے زیادہ سخت مؤقف اور اسرائیلی اقدامات پر مزید سخت ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین