منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستانی فورسز کے سرحدی علاقوں میں کارروائیاں، 12 اہلکار اور 35 عسکریت...

پاکستانی فورسز کے سرحدی علاقوں میں کارروائیاں، 12 اہلکار اور 35 عسکریت پسند ہلاک
پ

اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے افغان سرحد کے قریب تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دو ٹھکانوں پر چھاپے مارے جن میں جھڑپوں کے دوران 12 فوجی اہلکار اور 35 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کے مطابق ہفتے کے روز جاری بیان میں بتایا گیا کہ شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پہلی کارروائی کے دوران 22 عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ جنوبی وزیرستان کے ضلع میں ایک اور آپریشن میں مزید 13 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ جنوبی وزیرستان میں لڑتے ہوئے 12 فوجی اہلکاروں نے "جام شہادت نوش کیا”، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو دوبارہ سرگرم ہونے والے مسلح گروہوں پر قابو پانے میں کس قدر مشکلات درپیش ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ گروہ، جسے اسلام آباد افغانستان میں مقیم قرار دیتا ہے، افغان طالبان سے الگ مگر قریبی تعلق رکھنے والا سمجھا جاتا ہے جو کابل میں برسرِاقتدار ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان طالبان افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کرتے ہیں اور کابل حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے اور اپنی زمین کو پاکستان مخالف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

پاکستانی فوج نے مارے گئے عسکریت پسندوں کو "خوارج” قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں بھارت کی پشت پناہی حاصل تھی، تاہم اس الزام کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

پاکستان طویل عرصے سے بھارت پر الزام عائد کرتا آیا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتا ہے، لیکن نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ اس بارے میں کابل میں طالبان حکومت یا نئی دہلی سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

پاکستان کو گزشتہ برسوں میں مسلح حملوں میں اضافے کا سامنا رہا ہے، جن میں زیادہ تر کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔ یہ گروہ 2021 میں افغان طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد مزید مضبوط ہوا، جب کئی طالبان رہنماؤں اور جنگجوؤں نے سرحد پار پناہ لی۔

خیبر پختونخوا صوبے میں یہ حملہ حالیہ مہینوں میں سب سے زیادہ جان لیوا کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں پاکستان طالبان کبھی وسیع علاقے پر قابض تھے، جنہیں 2014 میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران پیچھے دھکیل دیا گیا تھا۔

صوبے کے مختلف اضلاع کے رہائشیوں نے حالیہ ہفتوں میں بتایا ہے کہ دیواروں پر تحریک طالبان کے نام سے وال چاکنگ دیکھی گئی ہے جس سے لوگوں میں اس بات کا خوف بڑھ رہا ہے کہ کہیں وہ دور دوبارہ نہ لوٹ آئے جب یہ گروہ خطے پر غالب تھا، جسے "دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے عروج کے دوران دیکھا گیا تھا۔

ایک مقامی سرکاری اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تحریک طالبان کے جنگجوؤں اور حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اے ایف پی کے اعدادوشمار کے مطابق، یکم جنوری سے اب تک تقریباً 460 افراد، جن میں زیادہ تر سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ریاست مخالف گروہوں کے حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔

اسلام آباد میں قائم "سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز” کے مطابق، گزشتہ سال پاکستان میں تقریباً ایک دہائی کے دوران سب سے زیادہ خونریز ثابت ہوا، جب 1,600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں لگ بھگ نصف کا تعلق فوج اور پولیس سے تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین