منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامینیوزی لینڈ میں بیس ہزار افراد کا فلسطین کے حق میں مظاہرہ

نیوزی لینڈ میں بیس ہزار افراد کا فلسطین کے حق میں مظاہرہ
ن

آکلینڈ (مشرق نامہ) – نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں تقریباً بیس ہزار افراد نے فلسطین کے حق میں ایک بڑے جلوس میں شرکت کی، جس میں غزہ میں فوری جنگ بندی، محاصرہ ختم کرنے اور "اسرائیل” پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

ہفتے کے روز مرکزی آکلینڈ کی گلیوں میں نعرے گونجتے رہے جب اندازاً بیس ہزار مظاہرین نے نیوزی لینڈ کی تاریخ کے سب سے بڑے فلسطین نواز مظاہروں میں سے ایک میں شرکت کی۔ شرکاء نے "اسرائیل” کے خلاف عملی اقدامات اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

منتظمین کے مطابق، حفاظتی خدشات کے باعث آکلینڈ ہاربر برج پر مارچ کا منصوبہ منسوخ ہونے اور راستہ آخری لمحے پر تبدیل ہونے کے باوجود ہزاروں افراد نے شہر کی مرکزی کوئین اسٹریٹ کو بھر دیا۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم لہرائے اور "فوری جنگ بندی” اور "قبضہ ختم کرو” جیسے نعرے درج بینرز اٹھا رکھے تھے۔

جلوس آؤٹیا اسکوائر سے شروع ہوا جہاں خاندانوں، طلبہ اور پرانے کارکنان نے سرخ، سبز، سیاہ اور سفید جھنڈوں کی چھتری تلے جمع ہو کر مارچ کیا۔ مختلف چوراہوں پر مظاہرین نے تقریریں سنیں، نعرے لگائے اور غزہ میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی یاد میں خاموشی اختیار کی۔

بچوں کو والدین نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا اور موقع بہ موقع ہجوم تالیاں بجا کر مطالبات کی تائید کرتا رہا۔ شرکاء کے اہم مطالبات یہ تھے:

غزہ میں فوری جنگ بندی۔

محاصرہ ختم کر کے انسانی امداد کی فراہمی۔

"اسرائیل” کے خلاف سفارتی و معاشی پابندیاں، بشمول نیوزی لینڈ کے تجارتی اور دفاعی تعلقات کا از سر نو جائزہ۔

جوابی مظاہرہ اور پولیس کی موجودگی

مارچ کے دوران ڈیسٹنی چرچ کے چند مخالف مظاہرین نے "یرغمالیوں کو رہا کرو” اور "حماس مردہ باد” کے نعرے لگائے۔ پولیس نے فوری طور پر انہیں ایک طرف ہٹا دیا اور بعض مواقع پر انسانی دیوار بنا کر کشیدگی بڑھنے سے روکی۔ حکام کے مطابق کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔

فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا مطالبہ

’آؤٹیاروآ فار فلسطین‘ کی ترجمان ندین مرتاجا، جو ریلی کی منتظم اور مقررہ بھی تھیں، نے کہا کہ احتجاج کے پیمانے نے عوامی غصے اور اتحاد کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کی سلامتی سب سے اہم ہے، لیکن انصاف کے لیے اجتماعی آواز بھی اتنی ہی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ پورے آؤٹیاروآ سے اس تاریخی احتجاج میں شریک ہونے آئے ہیں، جو نیوزی لینڈ میں فلسطین کے ساتھ یکجہتی کی تحریک کا نیا موڑ ہے۔

جلوس وکٹوریا پارک پر تقاریر اور نعروں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جہاں منتظمین نے مزید مظاہروں کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات کی اجازت ملی تو ہاربر برج پر دوبارہ مارچ کی کوشش کی جائے گی۔

ایک مقرر نے کہا کہ یہ تحریک کیمروں کے جانے سے ختم نہیں ہوگی بلکہ مطالبات کی تکمیل تک بار بار لوٹ کر آئے گی۔

یہ آکلینڈ مظاہرہ آسٹریلیا میں گزشتہ ماہ ہونے والے بڑے فلسطین نواز جلوسوں کے بعد منعقد ہوا جہاں سڈنی اور برسبین میں ہزاروں افراد پلوں پر مارچ کر چکے ہیں۔

نیوزی لینڈ میں بیس ہزار افراد کے سڑکوں پر نکلنے سے فلسطین کے ساتھ بڑھتی ہوئی یکجہتی اور غزہ میں جنگ بندی کے عالمی مطالبے کو اجاگر کیا گیا۔ مظاہرین نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک انصاف کی آواز سنی نہیں جاتی، ان کی تحریک جاری رہے گی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین