میرپور (آزاد کشمیر)،(مشرق نامہ) 11 ستمبر (اے پی پی):پاکستان سمیت دولتِ مشترکہ کے ہائی کمشنرز نے دولتِ مشترکہ سیکرٹریٹ کے لیے ایک پانچ سالہ اسٹریٹجک پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد 2.7 ارب افراد کو ہدفی معاونت فراہم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ 2025 سے 2030 تک کے عرصے پر محیط ہوگا اور اسے رکن ممالک، وابستہ و تسلیم شدہ اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے وسیع مشاورت کے بعد ترتیب دیا گیا ہے۔ نئے منصوبے کے تحت سیکرٹریٹ اپنی سرگرمیوں کو مزید مؤثر، جامع اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے تین اہم ستونوں پر توجہ مرکوز کرے گا: جمہوری مضبوطی (انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، اچھی حکمرانی اور شفاف انتخابات)، معاشی مضبوطی (منصفانہ مالی رسائی، جامع تجارت اور پائیدار قرضوں کا نظام) اور ماحولیاتی مضبوطی (موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا، سمندروں کا تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو فروغ دینا)۔ ان ستونوں میں نوجوانوں، خواتین اور چھوٹے ممالک کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے، جس میں خصوصاً نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارتوں، آن لائن تعلیم، کاروباری مواقع اور بچیوں کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ دولتِ مشترکہ کی سیکرٹری جنرل، شرلی بوچوے، نے کہا کہ ایک تیزی سے بدلتی دنیا میں دولتِ مشترکہ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، اور ہمیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر ترقی کے راستے کو تیز کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ منصوبہ دولتِ مشترکہ چارٹر کی دیرپا اقدار پر مبنی ہے، مگر موجودہ دور کے حقیقی چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد بورڈ آف گورنرز کی چیئر اور برطانیہ میں ٹونگا کی ہائی کمشنر ٹیٹیلُوپے فانیٹوپوواواُو توئی واکانو نے کہا کہ یہ منصوبہ رکن ممالک اور سیکرٹریٹ کے درمیان تعاون کو ایک نئے درجے تک لے گیا ہے، اور بالخصوص چھوٹے جزیراتی ممالک کے مسائل پر خصوصی توجہ دینے پر شکر گزار ہیں۔ اس اسٹریٹجک پلان کے تحت اب تفصیلی منصوبہ جات اور اقدامات شروع کیے جائیں گے تاکہ دولتِ مشترکہ کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کے لیے مؤثر بنایا جا سکے، جبکہ آئندہ ہفتوں میں سیکرٹری جنرل اس نئی سمت کو دیگر شراکت داروں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے مختلف ملاقاتیں کریں گی اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں وزرائے خارجہ کے دولتِ مشترکہ اجلاس کی قیادت بھی کریں گی۔

