منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان نے بن لادن سے تشبیہ دینے پر اسرائیل کو سخت جواب...

پاکستان نے بن لادن سے تشبیہ دینے پر اسرائیل کو سخت جواب دیا
پ

اسلام آباد(مشرق نامہ) :پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام سے متعلق اسرائیل کے دعوؤں پر سوال اٹھایا ہے، جب کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے دوحہ (قطر) پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔ اسلام آباد نے واضح کیا کہ پاکستان ہر قسم کے بیرونی خطرے کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان نے اسرائیل کو اس وقت بھی سخت جواب دیا جب صیہونی ریاست نے دوحہ پر اپنے حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح امریکہ کی اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی پر کسی نے تنقید نہیں کی تھی، اسی طرح اس پر بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اس بیان کے بعد دونوں ملکوں کے نمائندوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور ہمیشہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا عالمی سطح پر علمبردار رہا ہے۔

یہ بحث سلامتی کونسل کے اجلاس میں ہوئی جو پاکستان، الجزائر اور صومالیہ کی درخواست پر جنوبی کوریا کی صدارت میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بلایا گیا تھا۔

پاکستان کے مستقل نمائندے اقوامِ متحدہ میں سفیر عاصم افتخار احمد نے جوابِ حق میں کہا:
"یہ ناقابلِ قبول بلکہ مضحکہ خیز ہے کہ ایک جارح، ایک قابض اور ایک ایسا ملک جو بارہا اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے — یعنی اسرائیل — اس کونسل کی توہین کرے اور اس کے تقدس کو پامال کرے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے "بے بنیاد الزامات اور دوسروں پر انگلیاں اٹھانا دراصل اپنی غیر قانونی کارروائیوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔”

پاکستان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کی رہائی واقعی اسرائیل کی ترجیح ہے یا نہیں۔ سفیر عاصم احمد نے کہا: "یہ بالکل واضح ہے کہ قابض طاقت اسرائیل ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ امن کے تمام امکانات کو سبوتاژ کر دے۔”

اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے دوحہ پر غیر قانونی اور بلا جواز حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے لیے کہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ہے، نہ غزہ میں، نہ تہران میں اور نہ ہی دوحہ میں۔ انہوں نے خبردار کیا:دہشتگردوں کو کوئی استثنیٰ نہیں۔ تاریخ ان کے ساتھیوں کے ساتھ نرم رویہ نہیں برتے گی۔ یا تو قطر حماس کی مذمت کرے، اسے ملک سے نکالے اور انصاف کے کٹہرے میں لائے، ورنہ اسرائیل یہ کرے گا۔

سفیر عاصم احمد نے سخت جواب دیتے ہوئے کہا:
"یہ [اسرائیل] ایک قابض ہے جو کسی کی نہیں سنتا؛ اپنے دوستوں کی بھی بات پر کان نہیں دھرتا، اگر کوئی باقی بچے ہوں تو؛ یہ صرف رد نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی برادری کے ارکان، عالمی میڈیا، انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں، حتیٰ کہ عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو بھی دھمکاتا ہے؛ یہ اقوامِ متحدہ اور اس کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی نشانہ بناتا ہے — اور یہ سب کچھ اسے سزا کے بغیر کرنے کی آزادی حاصل ہے۔

یہ اپنے حمایتیوں کے سائے تلے چھپا ہوا ہے، جو بار بار اس کی غیر قانونی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اور تمام قابض طاقتوں کی طرح اسرائیل بھی، باوجود اس کے کہ وہ خود جارح ہے، مظلوم بننے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ لیکن آج وہ پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین