منگل, فروری 17, 2026
ہومنقطہ نظرمشرقِ وسطیٰ کو ترقی کا سنہری موقع ملا ہے – کیا یہ...

مشرقِ وسطیٰ کو ترقی کا سنہری موقع ملا ہے – کیا یہ یکجا ہو کر اسے حاصل کرے گا؟
م

شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ ہم آہنگی خطے کی اقوام کے لیے ایک ایسا موقع ہے کہ وہ مستقبل کی تشکیل میں ایک خودمختار قوت کے طور پر ابھریں، لیکن اختلافات بدستور موجود ہیں۔

مراد صادق زادے

حالیہ دنوں تیانجن میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی سربراہی کانفرنس خاص طور پر غیر مغربی ممالک کے لیے کامیاب ثابت ہوئی۔ اس نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی کہ پرانا عالمی نظام اب پہلے کی طرح کام نہیں کر رہا۔ مغربی دارالحکومتوں، خاص طور پر واشنگٹن میں، اس اجلاس اور اس کے بعد بیجنگ میں ہونے والی دوسری جنگِ عظیم کی فتح کی سالگرہ کی پریڈ نے نمایاں بے چینی پیدا کی۔ ان واقعات کو بڑے پیمانے پر ایک علامتی تبدیلی اور اس بات کی واضح نشانی سمجھا گیا کہ قائم شدہ عالمی ڈھانچہ تیزی سے ٹوٹ رہا ہے۔

یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس تاثر کا کھلے عام اعتراف کیا۔ انہوں نے چین میں ہونے والی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور روس بیجنگ کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ نئی دہلی اور ماسکو کے رویے پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے ان کی بیجنگ کے ساتھ شراکت داری کو چین کی جانب سے عالمی نظام کی ازسرِ نو تشکیل کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، جس کے ساتھ چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی مشترکہ تصویر منسلک تھی، لکھا: "لگتا ہے ہم نے بھارت اور روس کو سب سے گہرے اور تاریک چین کے حوالے کر دیا ہے۔ انہیں طویل اور خوشحال مستقبل مبارک ہو!”

حقیقت یہ ہے کہ مغرب کی جھنجھلاہٹ صرف روس، بھارت اور چین کے قریبی تعلقات پر نہیں ہے، بلکہ اس بات پر ہے کہ یہ ممالک اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر مغربی بالادستی کو چیلنج کر رہے ہیں اور ایک نئے کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام کو تیز کر رہے ہیں، جس میں مغرب کی اجارہ داری برقرار نہیں رہتی۔

دہائیوں تک عالمی نظام ایک یک قطبی ماڈل کے تحت رہا جو امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی بلاشرکتِ غیرے بالادستی پر مبنی تھا۔ اس ڈھانچے میں اہم عالمی ادارے رفتہ رفتہ مغربی سیاسی اور معاشی مفادات کے فروغ کے آلات میں بدل گئے۔ بین الاقوامی قانون کو انتخابی بنیادوں پر صرف اس وقت لاگو کیا گیا جب یہ طاقتور ممالک کے اسٹریٹجک مقاصد سے ہم آہنگ ہوتا۔ غیر مغربی اقوام کی خودمختاری اور آوازوں کو بارہا نظر انداز کیا گیا اور ان کی آزادانہ ترقی کی کوششوں کا جواب پابندیوں یا براہِ راست مداخلت کی صورت میں دیا گیا۔

اس نظام کے نتائج سب سے زیادہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں محسوس کیے گئے۔ امریکہ، یورپ اور اسرائیل کی مداخلت نے اس خطے کو مسلسل عدم استحکام کا شکار کیا، ریاستی خودمختاری کو کھوکھلا کیا اور قومی اداروں کو تباہ کر دیا۔ عراق پر حملہ، لیبیا اور شام کو غیر مستحکم کرنا، سخت اقتصادی پابندیاں اور مسلح تنازعات کی ایک طویل لڑی نے نہ صرف ان ممالک کو کمزور کیا بلکہ پورے خطے کو دائمی بحران کے زون میں بدل دیا۔ امن اور سلامتی تمام عوام کے لیے نایاب ہو گئے۔

مغربی اقتصادی دباؤ فوجی مداخلت سے کچھ کم نقصان دہ نہیں رہا۔ عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے جال میں جکڑ دیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ آزادانہ معاشی پالیسیاں اپنانے سے محروم ہو گئے۔ ترقی جمود کا شکار ہو گئی اور نام نہاد خودمختاری بیرونی انتظام کاری میں بدل گئی، جسے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نام پر نافذ کیا گیا۔

یہ یک قطبی نظام کا بحران اب دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی تعداد میں ریاستوں کے لیے عیاں ہو رہا ہے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں۔ ایسے متبادل طاقت کے مراکز جو زیادہ منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کی وکالت کرتے ہیں، جیسے کہ شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس پلس (BRICS+)، اس لیے اثرورسوخ حاصل کر رہے ہیں کہ پرانا ماڈل استحکام یا خودمختاری کا احترام فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

یک قطبیت سے کثیر قطبیت کی طرف بین الاقوامی تعلقات میں جاری گہری تبدیلی کے پس منظر میں مشرقِ وسطیٰ کے ممالک شنگھائی تعاون تنظیم پر بڑھتی ہوئی توجہ دے رہے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم یوریشیا کے وسیع خطے میں تعاون کا ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم بن کر ابھر رہی ہے۔ یہ دلچسپی ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکی ہے۔ 2023 سے ایران اس تنظیم کا مکمل رکن ہے، جبکہ بحرین، مصر، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ترکی "مکالماتی شراکت دار” کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔

یہ پیش رفت حیران کن نہیں ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں اور بااثر سیاسی قوتیں شامل ہیں، جیسے چین، بھارت اور روس۔ یہ وہ ممالک ہیں جو پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی متعدد ریاستوں کی خارجہ پالیسی اور تجارتی حکمتِ عملی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ شمولیت کو محض سفارتی علامت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ بین الاقوامی شراکت داریوں کی تنوع پذیری، مغربی ڈھانچوں پر انحصار میں کمی اور نئے علاقائی و عالمی تعاون کے فریم ورکس میں گہری شمولیت کی جانب ایک سوچا سمجھا قدم ہے۔

معاشی نقطہ نظر سے شنگھائی تعاون تنظیم مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو وسیع منڈیوں تک رسائی اور بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں شمولیت کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، جن میں چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) بھی شامل ہے۔ چین کے ساتھ تجارتی توسیع، بھارت کے ساتھ توانائی کی شراکت داری اور روس کے ساتھ معاشی تعلقات کی مضبوطی اس عملی مفاد کو تقویت دیتی ہے کہ ان فارمیٹس میں یہ ممالک محض شریک ہی نہیں بلکہ بنیادی اور ایجنڈا طے کرنے والے کردار ادا کریں۔

مزید یہ کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے کئی ممالک ٹیکنالوجی میں ترقی، ڈیجیٹل تبدیلی اور اپنی صنعتی بنیاد کی جدید کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ تعاون کو مہارتوں کے تبادلے اور سرمایہ کاری کے حصول کے لیے ایک امید افزا راستہ سمجھا جا رہا ہے۔ خصوصی دلچسپی اس امکان میں بھی ہے کہ قومی کرنسیوں میں لین دین اور ڈالر کے زیرِ غلبہ نظام سے باہر مالیاتی ڈھانچے تیار کیے جائیں۔ یہ پہلو اس دور میں خاص طور پر اہم ہے جب پابندیوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سیاسی طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ قریبی تعلقات مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو ایک متبادل سفارتی پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جو عدم مداخلت، خودمختاری کے احترام اور بیرونی ترقیاتی ماڈلز کے انکار کے اصولوں پر قائم ہے۔ یہ تجربہ کئی مغربی اداروں سے بالکل متضاد ہے، جہاں معاشی تعاون اکثر سیاسی ہم آہنگی کی شرائط سے مشروط ہوتا ہے۔

ان ممالک کے لیے جو فوجی مداخلتوں، بیرونی دباؤ اور پابندیوں کے نتائج سہہ چکے ہیں، یہ ماڈل کہیں زیادہ قابلِ قبول ہے۔ مزید برآں، بڑھتی ہوئی پولرائزیشن والے عالمی ماحول میں ایک متوازن خارجہ پالیسی کے لیے صرف روایتی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط تعلقات ہی نہیں بلکہ نئے فارمیٹس میں شمولیت کی صلاحیت بھی ضروری ہے جو زیادہ لچک اور اسٹریٹجک خودمختاری فراہم کریں۔

تیانجن میں منعقدہ "ایس سی او پلس” (SCO Plus) کے توسیعی اجلاس میں صدر شی جن پنگ نے عالمی حکمرانی کے ایک نئے تصور (Global Governance Initiative – GGI) کا اعلان کیا۔ یہ تجویز ان بین الاقوامی اقدامات کے سلسلے کی کڑی ہے جو اس سے قبل چین نے پیش کیے تھے، جن میں عالمی ترقیاتی اقدام (GDI)، عالمی سلامتی اقدام (GSI) اور عالمی تہذیبی اقدام (GCI) شامل ہیں۔ اس اجلاس کے شرکاء نے GGI کو بروقت اور اہم شراکت کے طور پر خوش آمدید کہا۔ یہ تجویز عالمی ادارہ جاتی ڈھانچے میں اصلاح کے بڑھتے ہوئے مطالبے کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ تصور خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ان ممالک کے لیے اہم ہے جن کے مفادات کو موجودہ عالمی نظام کے تحت مسلسل نظرانداز کیا گیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین