منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیامریکا کا چین سے تصادم نہ کرنیکا عندیہ، پینٹاگون

امریکا کا چین سے تصادم نہ کرنیکا عندیہ، پینٹاگون
ا

واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بیجنگ کو یقین دلایا ہے کہ واشنگٹن چین کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا، تاہم وہ اپنے ایشیا پیسیفک مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

پینٹاگون کے مطابق ہیگستھ اور چین کے وزیر دفاع ایڈمرل ڈونگ جن کے درمیان پہلی بار ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جسے ’’صاف گو‘‘ قرار دیا گیا۔ اس موقع پر ہیگستھ نے کہا کہ امریکا چین کے خلاف تصادم، حکومت کی تبدیلی یا دباؤ کی پالیسی نہیں چاہتا لیکن خطے میں اپنے ’’اہم مفادات‘‘ کا دفاع کرے گا۔

چینی خبررساں ادارے شینخوا کے مطابق یہ کال امریکی درخواست پر ہوئی۔ ڈونگ جن نے کہا کہ دونوں ممالک کو فوجی تعلقات کو ’’برابر کے احترام، پُرامن بقائے باہمی اور باہمی اعتماد‘‘ کی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ چین جنوبی بحیرہ چین میں امن و استحکام چاہتا ہے اور غیر علاقائی ممالک کی ’’مداخلت اور اشتعال انگیزی‘‘ کی مخالفت کرتا ہے۔

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مئی میں ہیگستھ نے کہا تھا کہ ’’چین کا خطرہ حقیقی ہے اور فوری بھی ہوسکتا ہے‘‘ اور ایشیا پیسیفک ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے پر زور دیا تھا۔

دونوں ممالک نے گزشتہ ماہ 90 روزہ محصولات کی جنگ بندی میں توسیع کی تھی، تاہم اس دوران رپورٹس آئیں کہ امریکا یورپی یونین پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ چین اور بھارت سے درآمدات پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرے۔

چین اور بھارت دونوں نے اس دباؤ کو مسترد کیا ہے۔ بیجنگ نے کہا کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات قومی مفاد کے مطابق پوری کرے گا اور خبردار کیا کہ ’’محصولاتی جنگوں کے کوئی فاتح نہیں ہوتے‘‘۔ بھارت نے نئے امریکی محصولات کو ’’غیر منصفانہ، بلاجواز اور غیر معقول‘‘ قرار دیا۔

ادھر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی مغرب کو خبردار کیا ہے کہ بیجنگ اور نئی دہلی کے ساتھ ’’نوآبادیاتی لہجے‘‘ میں بات نہ کی جائے کیونکہ اس کا مقصد ان ممالک کی معاشی ترقی کو سست کرنا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین