منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیچین نے خدشات کے باوجود سی پیک 2.0 پر زور دیا

چین نے خدشات کے باوجود سی پیک 2.0 پر زور دیا
چ

بیجنگ(مشرق نامہ):چین نے 62 ارب ڈالر مالیت کے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، اگرچہ چینی حکام کو پاکستان میں سکیورٹی خدشات، سیاسی عدم استحکام اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کی صلاحیت پر شدید تحفظات ہیں۔

بیجنگ کی یہ نئی کمٹمنٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب 2018 کی حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان میں کئی بڑے منصوبے رکے یا تاخیر کا شکار ہوئے، جس نے چین کو سخت مایوس کیا۔ چینی حکام خاص طور پر اپنے اہلکاروں کی سکیورٹی، بیوروکریسی کی رکاوٹوں اور اسلام آباد کی پالیسیوں میں تسلسل پر فکر مند ہیں۔

ایک چینی سفارتکار نے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا: گزشتہ ڈیڑھ سال سے ہم پاکستان میں پالیسیوں میں بہتری اور تسلسل دیکھ رہے ہیں، لیکن ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ اب بھی اپنے کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کی سکیورٹی ہے۔

2015 میں شروع ہونے والے سی پیک کے پہلے مرحلے میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے توانائی کے کچھ منصوبے اور سڑکوں کے نیٹ ورک مکمل ہوئے، مگر سیاسی اتار چڑھاؤ، تاخیر اور سکیورٹی مسائل نے رفتار کو متاثر کیا۔

چین کے لیے یہ راہداری اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ سنکیانگ کو گوادر سے جوڑتی ہے، جس کے ذریعے چین خلیجی اور مشرق وسطیٰ کی منڈیوں تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکتا ہے اور آبنائے ملاکا پر انحصار کم کر سکتا ہے۔ یہ چین کی توانائی سلامتی اور تجارتی توسیع کے منصوبوں کا بنیادی حصہ ہے۔

چینی حکام کے مطابق پاکستان کو ایک بار پھر اپنی معیشت بحال کرنے کا موقع ملا ہے کیونکہ ملک حال ہی میں ڈیفالٹ سے بچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

سی پیک کے دوسرے مرحلے میں انفراسٹرکچر کے بجائے صنعتی تعاون اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر توجہ دی جا رہی ہے۔ چینی کمپنیاں توانائی، ویسٹ مینجمنٹ اور ماس ٹرانزٹ سسٹمز، بشمول لاہور-اسلام آباد ہائی اسپیڈ ریلوے منصوبے میں شراکت داری کی خواہش رکھتی ہیں، لیکن یہ سب سکیورٹی اور انتظامی فریم ورک کی بہتری سے مشروط ہے۔

سب سے نمایاں منصوبہ پاکستان کی نوآبادیاتی دور کی مین لائن ون (ML-1) ریلوے کا سات ارب ڈالر کا اپ گریڈ ہے، جو سی پیک 2.0 کا مرکز ہے۔ یہ منصوبہ چار سال میں مکمل ہوگا اور اس کے لیے کثیرالجہتی مالی معاونت درکار ہے۔

چینی حکام نے کہا کہ ان کی اپنی ترقی کا ماڈل پاکستان کے لیے مثال ہے جس کے ذریعے انہوں نے 800 ملین افراد کو غربت سے نکالا۔ ان کے مطابق "یہ سرمایہ کاری پاکستان کے عوام کے لیے نئی زندگی کا باعث بن سکتی ہے، لیکن اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ملک اس موقع سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھا سکے۔”

سی پیک 2.0 پاکستان کی "پانچ ایز” پالیسی (ایکسپورٹ، ای-پاکستان، ماحولیات، توانائی اور مساوات) کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جبکہ چین اسے پانچ راہداریوں (ترقی، جدت، سبز ترقی، روزگار اور کھلے پن) کے وژن سے جوڑ رہا ہے۔

چینی حکام کے مطابق ایک فعال سی پیک خلیج اور افریقہ کی منڈیوں تک محفوظ راستہ فراہم کرے گا اور پاکستان کو صنعتی ترقی، روزگار اور استحکام ملے گا۔ تاہم، اصل کامیابی کا انحصار اسلام آباد کی صلاحیت پر ہے کہ وہ چین کے خدشات، خاص طور پر سکیورٹی اور سیاسی تسلسل کو کیسے حل کرتا ہے۔

ایک اور چینی سفارتکار نے کہا: "سی پیک 2.0 صرف انفراسٹرکچر نہیں بلکہ امنگ، جدت اور مشترکہ مستقبل کا منصوبہ ہے”، اس لیے پاکستان کی طرف سے اس کا مؤثر نفاذ دونوں ممالک کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے نہایت اہم ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین