مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) اسرائیل کا قطر پر حملہ دنیا بھر میں تشویش کا باعث بنا ہے، مگر اس کے اتحادیوں کی پالیسیوں میں کسی بڑے تبدیلی کا امکان فی الحال نظر نہیں آتا۔
منگل کے روز قطر میں حماس کے سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے اسرائیلی حملے پر عالمی رہنماؤں نے فوری طور پر مذمت کی۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو عام طور پر اسرائیل کے بڑے حامی سمجھے جاتے ہیں، نے کہا کہ وہ اس حملے کے ہر پہلو پر بہت ناخوش ہیں۔ جرمنی نے، جو اسرائیل کا دیرینہ حمایتی ہے، اس کارروائی کو ناقابل قبول اور قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ بھارت نے بھی، جو نریندر مودی کی قوم پرست حکومت کے تحت عموماً اسرائیل کے قریب رہا ہے،شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی میں اضافے کے خدشے کی وارننگ دی۔
تاہم یہ زبانی مذمت کسی بڑی پالیسی تبدیلی میں ڈھلنے کے امکانات کم رکھتی ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں اپنی جنگ کے دوران بین الاقوامی قوانین کی بارہا خلاف ورزی کی ہے، جہاں وہ 64 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کر چکا ہے، پوری پٹی کو تباہ کر دیا ہے اور قحط پیدا کر دیا ہے۔ اس نے پڑوسی ممالک پر بھی حملے کیے ہیں اور عالمی تنقید کو مسلسل مسترد کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق قطر پر حملہ اسرائیل کی پالیسیوں کو بدلنے والا نہیں ہے۔ برطانیہ کے Royal United Service Institute کے تجزیہ کار ایچ اے ہیلیئر کے مطابق:
“اسرائیل پچھلے دو سالوں میں لبنان، شام، یمن، ایران اور تیونس کی خودمختاری پامال کر چکا ہے اور غزہ میں تباہی مچا چکا ہے، لیکن اس کے باوجود اتحادی ممالک کی پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ اب بھی ایسا ہونے کا امکان کم ہے۔”
خلیج کی اہمیت
قطر کی بڑھتی ہوئی سفارتی حیثیت اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود یہ حملہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مشکل میں ڈالنے کے بجائے زیادہ تر خلیجی ممالک کے رویے کو سخت کرے گا۔
اس حملے میں حماس کے چند نچلے درجے کے اراکین اور ایک قطری سکیورٹی افسر ہلاک ہوئے۔ خلیجی رہنما دوحہ کے دورے پر جا رہے ہیں اور قطر کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک اجتماعی ردعمل پر غور کر رہے ہیں۔
دوسری طرف یورپ میں اسرائیل کے خلاف رویہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ اسپین نے اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی لگا دی ہے اور فوجی ایندھن لے جانے والے جہازوں کو اپنی بندرگاہوں سے گزرنے سے روک دیا ہے۔ یورپی یونین نے بھی آزادانہ تجارتی معاہدے کی معطلی سمیت ممکنہ پابندیوں کی بات کی ہے۔
دوہرے معیار
تاہم اسرائیل کے خلاف مغربی اقدامات روس پر یوکرین پر حملے کے بعد لگائی گئی وسیع پابندیوں کے مقابلے میں بہت محدود ہیں۔ اسرائیل خطے بھر میں مزید پرتشدد کارروائیاں کر رہا ہے—یمن کے دارالحکومت صنعا میں رہائشی علاقے پر حملہ، تیونس میں غزہ کے لیے امدادی بیڑے پر مبینہ ڈرون حملے، اور شام، لبنان و ایران میں کارروائیاں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے قطر پر حملے کی کھلے عام ذمہ داری قبول کی ہے۔ وزیر خزانہ بیزلیل سموتریچ نے مزید بڑھ کر کہا کہ اسرائیل کے دشمن دنیا میں کہیں بھی اس کی گرفت سے محفوظ نہیں رہیں گے۔
فیصلہ کن کردار: امریکہ اور ٹرمپ
ماہرین کے مطابق اسرائیل کے رویے کو تبدیل کرنے والا واحد ملک امریکہ ہے۔ امریکہ اسے اربوں ڈالر کی فوجی و مالی امداد دیتا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس کا تحفظ کرتا ہے۔ سابق صدر ٹرمپ، جنہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا، اسرائیل میں خاص طور پر مقبول ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کی بات کی ہے، لیکن عمومی طور پر وہ اسرائیل کے موقف کے حامی ہیں۔ قطر پر حملے کے معاملے میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ انہیں آخری لمحے اطلاع ملی اور قطر کو خبردار کرنے کی کوشش کی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا ٹرمپ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کرے اور خطے میں مزید مہم جوئی ترک کرے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ اسرائیل کو عالمی سطح پر واقعی تنہا کرنے کا آغاز ہو سکتا ہے۔
جیسا کہ بیروت کے پروفیسر کریم امیل بطر نے کہا:عالمی منظرنامے میں اصل گیم چینجر صرف امریکہ ہے، اور خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ۔

