منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامینیپال کا بحران جنوبی ایشیا اور دنیا کے لیے کیوں اہم ہے؟

نیپال کا بحران جنوبی ایشیا اور دنیا کے لیے کیوں اہم ہے؟
ن

از عابد حسین

اسلام آباد، پاکستان (مشرق نامہ) – اتوار کے روز نیپال کے اُس وقت کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے نوجوان مظاہرین کا مذاق اڑایا جو اگلے دن دارالحکومت کھٹمنڈو میں کرپشن اور اقربا پروری کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کی تیاری کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ خود کو جنریشن زی کہلاتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جو چاہیں مطالبہ کر سکتے ہیں۔

لیکن 48 گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ اولی وزارتِ عظمیٰ سے محروم ہو چکے تھے، اور وہی جن زی تحریک جسے انہوں نے ہلکا سمجھا تھا، اب اس بات پر بحث کر رہی تھی کہ نیپال کی قیادت کون کرے گا۔ اس کی بڑی وجہ پیر کے روز پولیس کی فائرنگ تھی جس میں کم از کم 19 مظاہرین مارے گئے، جس نے عوامی غصے کو مزید بھڑکا دیا۔ منگل کو مظاہرین نے پارلیمان کی عمارت اور کئی اہم سیاستدانوں کے گھروں کو آگ لگا دی، اولی کی کابینہ کے وزراء مستعفی ہونا شروع ہوگئے اور بڑھتے دباؤ کے باعث بالآخر وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑا۔ پیر اور منگل کو جھڑپوں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 31 تک جا پہنچی۔

یہ ڈرامائی حالات نیپال کو سیاسی تبدیلی کے ایک نئے مرکز میں تبدیل کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے سری لنکا میں 2022 اور بنگلہ دیش میں 2024 کی نوجوان قیادت میں ہونے والی تحریکوں نے بھی حکومتوں کا تختہ الٹ دیا تھا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نیپال کا یہ بحران صرف 3 کروڑ آبادی والے ملک کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کی سیاسی تاریخ ہمیشہ سے بھارت، چین اور پاکستان کے درمیان طاقت کے توازن سے جڑی رہی ہے۔


نیپال میں کیا ہوا؟

8 ستمبر کو لاکھوں نوجوان کرپشن اور اقربا پروری کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔ حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر پابندی نے عوامی غصے کو اور بھڑکا دیا۔ جب مظاہرین رکاوٹیں توڑ کر پارلیمان کے احاطے میں داخل ہوئے تو سکیورٹی فورسز نے ان پر براہِ راست گولیاں، آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ اس کارروائی میں 19 مظاہرین ہلاک ہوئے۔

اس کے بعد اگلے دن مزید پرتشدد احتجاج ہوا۔ سیاستدانوں کے گھروں اور پارٹی دفاتر کو آگ لگا دی گئی۔ نیپال کے سب سے بڑے میڈیا ادارے کانتی پور پبلی کیشنز کی عمارت کو بھی نذرِ آتش کیا گیا۔ دوپہر تک اولی نے استعفیٰ دے دیا، لیکن مظاہرین اب پارلیمان کی تحلیل، نئے انتخابات، ایک عبوری حکومت اور اُن لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جنہوں نے 8 ستمبر کو فائرنگ کا حکم دیا تھا۔ کھٹمنڈو میں فوج سڑکوں پر ہے اور کرفیو نافذ ہے۔

نیپال کی تاریخ طلبہ کی مزاحمتی تحریکوں سے بھری پڑی ہے۔ 1951 میں رانا خاندان کے خلاف عوامی تحریک نے جدید دور کی پہلی بغاوت کو جنم دیا جس نے بادشاہ کو اقتدار بانٹنے پر مجبور کیا۔ 1959 میں پہلا عام انتخاب ہوا مگر 1960 میں بادشاہ نے حکومت برطرف کر کے 30 برس تک ’’پنچایت‘‘ نظام نافذ کر دیا۔ اس عرصے میں طلبہ مظاہرے ہی احتجاج کا سب سے بڑا ذریعہ رہے۔ بالآخر 1990 میں عوامی تحریک نے پنچایت نظام ختم کیا اور پارلیمانی سیاست کی بحالی کی۔

1996 سے 2006 تک ماؤ نواز کمیونسٹ پارٹی کی بغاوت میں 10 ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے۔ 2006 میں ایک اور عوامی تحریک نے بادشاہ گیانندرا کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا، اور 2008 میں نیپال کو جمہوری جمہوریہ قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد تین بڑی جماعتوں – کمیونسٹ پارٹی (یو ایم ایل)، کمیونسٹ پارٹی (ماؤسٹ) اور نیپالی کانگریس – کے رہنماؤں نے بار بار اقتدار سنبھالا۔ کے پی شرما اولی بھی چار بار وزیراعظم رہے۔


بنیادی وجوہات اور عوامی غصہ

تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا پر پابندی احتجاج کا فوری سبب بنی، مگر اصل مسائل کرپشن، اقربا پروری اور ناقص طرزِ حکمرانی ہیں۔ صحافی رجنیش بھنڈاری کے مطابق یہ مظاہرے حکمران طبقے کے خلاف برسوں سے پلنے والے غصے کا اظہار ہیں، جو عوامی مطالبات کو مسلسل نظرانداز کرتے آئے۔ اسی طرح انسانی حقوق کے کارکن آشر واد تریپاتی کا کہنا ہے کہ پرانی جماعتوں نے صرف وزارتِ عظمیٰ کی کرسی کے گرد کھیل کھیلا، جس نے نوجوان نسل کو مایوس کر دیا۔


جغرافیہ، ہمسایے اور طاقت کی سیاست

نیپال کا بحران اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث عالمی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں واقع یہ ملک بھارت اور چین کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ تاریخی طور پر نیپال بھارت کے قریب رہا ہے، لیکن گھریلو سیاست کے بدلنے کے ساتھ اس کی خارجہ سمت بھی بدلتی رہی۔ اولی کو زیادہ تر بیجنگ کے قریب سمجھا جاتا تھا، اس لیے ان کا جانا نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان اثر و رسوخ کی نئی کشمکش کو جنم دے سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عبوری قیادت کسی ایسی شخصیت کو مل سکتی ہے جو فوج کو قابلِ قبول ہو، جیسے سابق چیف جسٹس سشیلہ کارکی۔ تاہم دونوں ہمسایے – بھارت اور چین – ایک ایسے حکمران کو دیکھنا چاہیں گے جو اُن کے مفادات کا خیال رکھے۔ نیپال نے ہمیشہ ان دونوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین