منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیخلیجی خطہ خطرے میں :اسرائیلی حملے پر قطر کا اجتماعی ردعمل کا...

خلیجی خطہ خطرے میں :اسرائیلی حملے پر قطر کا اجتماعی ردعمل کا مطالبہ
خ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے اسرائیلی حملے کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ پر حملے کا جواب ایک ’اجتماعی ردعمل کی صورت میں دیا جانا چاہیے کیونکہ اس جارحیت نے پورے خلیجی خطے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ خطے کے شراکت داروں کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور اس کے نتیجے میں ایک مشترکہ اقدام سامنے آئے گا جو اسرائیل کو مزید غنڈہ گردی سے روکنے کے لیے مؤثر ہوگا۔ شیخ محمد نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو افراتفری کی طرف دھکیل رہے ہیں اور امن کے تمام امکانات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

منگل کو اسرائیلی فوج نے دوحہ میں موجود حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا جو غزہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز پر غور کر رہے تھے۔ اس حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے جن میں قطر کے دو سیکیورٹی افسر بھی شامل تھے، تاہم حماس کی قیادت اس قاتلانہ حملے سے محفوظ رہی۔ اس حملے کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی اور بدھ کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ ’’یہ حملے ناقابلِ قبول ہیں اور انہوں نے قطر کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے فرانس کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

اسرائیل کے یہ حملے دراصل اس کی سرحدوں سے باہر جارحیت کی ایک وسیع مہم کا حصہ ہیں۔ صرف 72 گھنٹوں کے اندر اسرائیل نے چھ مختلف ممالک کو نشانہ بنایا جبکہ سال کے آغاز سے اب تک سات ممالک پر حملے کر چکا ہے۔ بدھ کو ہی اسرائیل نے یمن میں ایک حملے میں 35 افراد کو شہید کیا۔ لبنان کی حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے قطر پر اسرائیلی حملے کو خلیجی ممالک کے لیے ایک کھلی دھمکی قرار دیا اور کہا کہ یہ کارروائی دراصل اسرائیل کے اُس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت وہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مغربی کنارہ، غزہ، لبنان، شام، مصر اور اردن کے کچھ حصوں پر قبضہ کرنے کا تصور کیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں پہلے ہی اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات عائد کر چکی ہیں، مگر اس کے باوجود اسرائیل نے بمباری کی مہم میں شدت پیدا کر دی ہے۔ بدھ کو غزہ میں مزید 72 فلسطینی شہید ہوئے جس کے بعد اکتوبر 2023 سے اب تک شہداء کی تعداد 64 ہزار 656 سے تجاوز کر گئی۔ اسرائیلی فوج غزہ شہر پر قبضے کے لیے پوری قوت کے ساتھ حملے کر رہی ہے جو دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کا مسکن ہے۔ قطری وزیراعظم نے کہا کہ دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا مقصد غزہ میں امن کے تمام مواقع کو سبوتاژ کرنا تھا۔ ان کے مطابق اسرائیل اور امریکہ دونوں اس ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ تھے، اس لیے یہ الزام غلط ہے کہ قطر کچھ چھپا رہا تھا۔

بدھ کو نیتن یاہو نے قطر پر مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جو ممالک دہشت گردوں کو پناہ دیں گے انہیں یا تو نکال دیں یا انصاف کے کٹہرے میں لائیں، بصورتِ دیگر اسرائیل خود کارروائی کرے گا۔ قطر کی وزارتِ خارجہ نے ان دھمکیوں کو بے پرواہ اور خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس کے دفتر کی میزبانی امریکہ اور اسرائیل کی درخواست پر ثالثی کے مقصد سے کی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ نیتن یاہو کے بیانات اس بزدلانہ حملے کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہیں جس نے قطری خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے۔

اسرائیلی حملے کے بعد عرب ممالک نے قطر سے اظہارِ یکجہتی کے لیے دوحہ کا رخ کیا۔ بدھ کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید نے قطر کے امیر سے ملاقات کے دوران اسرائیلی کارروائی کو ’’مجرمانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قطر کی خودمختاری اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ کویت اور اردن کے ولی عہد بھی قطر پہنچے جبکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جمعرات کو دوحہ پہنچیں گے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ ’’ہم قطر کے ساتھ ہر حال میں کھڑے ہیں اور اپنی تمام صلاحیتیں اس کے دفاع کے لیے استعمال کریں گے۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختصر بیان میں کہا کہ وہ اسرائیلی حملے سے ’’خوش نہیں‘‘ ہیں اور وضاحت دی کہ یہ فیصلہ ان کا نہیں بلکہ نیتن یاہو کا تھا۔ تاہم یہ ابہام باقی ہے کہ آیا امریکہ کو اس حملے کی پیشگی اطلاع تھی یا اس نے اس کی خاموش منظوری دی، یا یہ واقعہ واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں دراڑ کا اشارہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل طویل عرصے سے امریکی پالیسیوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتا آیا ہے اور دوہرے معیار کے تحت اپنی مرضی کی کارروائیاں کرتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین