منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیتین سال، تین بغاوتیں

تین سال، تین بغاوتیں
ت

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)

گزشتہ تین برسوں میں ہمارے خطے کی تین مختلف حکومتیں عوامی بغاوت کے نتیجے میں ڈومینو کی طرح گر گئیں۔

جولائی 2022 میں سری لنکا میں گوتابایا راجاپکشے کی حکومت اس وقت ختم ہوئی جب ملک کی خودمختاری کے ڈیفالٹ کے بعد پیدا ہونے والے شدید معاشی بحران نے عوام کو اشتعال دلایا اور مشتعل ہجوم نے صدارتی محل پر دھاوا بول دیا، جس کے بعد صدر اور وزراء ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔

اگست 2024 میں ڈھاکا میں طلبہ کے ایک بڑے جلوس نے شیخ حسینہ واجد کی رہائش گاہ پر چڑھائی کی، جس کے نتیجے میں ان کی حکومت گر گئی۔ اب نیپال میں بھی وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑا، جب نوجوانوں کے پرتشدد ہجوم نے پارلیمنٹ کو آگ لگا دی اور حکومتی رہنماؤں سمیت دیگر سیاسی شخصیات کے گھروں پر قبضہ کرلیا۔

یہ تاثر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ تینوں عوامی تحریکیں کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگرچہ ان کے فوری محرکات مختلف تھے۔ سری لنکا میں شدید معاشی بدحالی، اشیائے ضروریہ کی قلت، مہنگائی اور بیروزگاری نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ بنگلہ دیش میں سرکاری نوکریوں کے کوٹہ سسٹم پر تنازعہ نے چنگاری بھڑکائی، جسے شیخ حسینہ برسوں سے اپنی طاقت مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتی رہیں۔ نیپال میں حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر پابندی نے بغاوت کو جنم دیا، مگر اس کی شدت ظاہر کرتی ہے کہ غصے کی جڑیں کہیں زیادہ گہری تھیں۔

یہ تینوں تحریکیں ’’خود رو‘‘ تھیں۔ نہ ان کے پیچھے کسی پارٹی کی قیادت تھی، نہ بسوں کے ذریعے لائے گئے مجمعے، نہ ہی لاؤڈ اسپیکروں پر پارٹی قائدین کے جوشیلے خطابات۔ زیادہ سے زیادہ کچھ طلبہ رہنما تھے جنہوں نے پیغامات کے ذریعے باقیوں کو متحرک کیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے کیسے ہوا؟

ایسا تب ہی ممکن ہے جب عوام کو مشترکہ طور پر باندھنے والے عوامل پہلے سے موجود ہوں، جیسے مہنگائی کی طویل لہر، قوتِ خرید کا زوال، یا ریاستی اداروں پر اعتماد کا خاتمہ۔ ایسے میں ایک افواہ یا ایک چھوٹا سا واقعہ بھی بڑے پیمانے پر یکجہتی پیدا کرسکتا ہے۔

سری لنکا میں تحریک ایک بڑے بلیک آؤٹ کے بعد اٹھی، ایسے وقت میں جب پٹرول کی قیمت ایک سال میں تقریباً تین گنا بڑھ گئی تھی — جو بیس برس میں ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ تیز تھا۔ یہ عوامی معیشت کے لیے بہت بڑا جھٹکا تھا۔

بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی بیروزگاری مرکزی وجہ بنی۔ وہاں سرکاری نوکریاں ہمیشہ سے یونیورسٹی گریجویٹس کے لیے سب سے بڑی خواہش رہی ہیں۔ لیکن حسینہ حکومت نے انہیں اپنے وفاداروں تک محدود کردیا، جس پر غصہ برسوں سے پک رہا تھا۔ بالآخر 2024 میں ایک متنازع عدالتی فیصلے نے اس آگ کو شعلہ بنا دیا۔

نیپال میں ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اصل عوامل کیا تھے، لیکن نوجوانوں کا پورے سیاسی طبقے کے خلاف شدید غصہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ محض وقتی ردعمل نہیں تھا۔

پاکستان میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے۔ پنجاب میں اسکول کے بچوں کے ایک افواہ پر تیزی سے احتجاج میں نکل آنے نے دکھایا کہ یہاں بھی بغیر کسی پارٹی ڈھانچے کے عوامی ہجوم یکایک بن سکتا ہے۔ اسلام آباد تک پہنچنا مشکل ضرور ہے کیونکہ وہ بڑے شہروں سے فاصلے پر ہے، مگر صوبائی دارالحکومت اتنے محفوظ نہیں۔

مہنگائی نے عوام کی آمدن کا بڑا حصہ کھا لیا ہے اور اداروں پر عوام کا اعتماد بھی نہایت کمزور ہے۔ ایسے میں کسی بھی چنگاری سے بڑی آگ لگ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو محض جبر پر بھروسہ کرنے کے بجائے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔

خرم حسین

مقبول مضامین

مقبول مضامین