کوئٹہ (مشرق نامہ): اپوزیشن کی تنقید کے باوجود بلوچستان اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں مزید ترامیم منظور کرلیں، جن کا مقصد ججوں اور پراسیکیوشن کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ریاست کو بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک لچکدار اور محفوظ قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی بلوچستان (ترمیمی) بل 2025 صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے پارلیمانی سیکریٹری میر زرین خان مگسی نے پیش کیا۔ بل کے مطابق اس کا مقصد انسدادِ دہشت گردی کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بدلتے سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے مقدمات کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر، حکومت کو ججوں، پبلک پراسیکیوٹرز، وکلا، گواہوں اور دیگر افراد کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
بل کے تحت ایک خفیہ طور پر مقرر کردہ بی ایس-21 افسر حساس مقدمات کی نگرانی کرے گا، جس کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔ اگر کیس غیر معمولی تحفظ کا متقاضی ہوا تو چیف جسٹس پانچ ججوں کا پینل بنا کر مجاز اتھارٹی کو بھیجیں گے، جو اس میں سے کسی ایک جج کو مقرر کرے گی۔ پراسیکیوٹرز کے لیے بھی یہی طریقہ اپنایا جائے گا۔ مزید برآں، ورچوئل سماعت، شناخت کو خفیہ رکھنے اور جدید حفاظتی ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت دی جائے گی تاکہ مقدمے کے تمام فریقین کو مکمل تحفظ دیا جا سکے۔
بل کے مطابق اگر عدالت میں فزیکل سماعت ہوگی تو وہ ایسی محفوظ جگہ پر ہوگی جس تک صرف ججوں، وکلا، پراسیکیوٹرز اور مقدمے کے متعلقہ افراد کو رسائی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ایک ’’مجاز اتھارٹی‘‘ صوبائی حکومت کی جانب سے مقرر ہوگی جس کی شناخت صرف چیف جسٹس کو بتائی جائے گی۔ یہ اتھارٹی چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرے گی کہ کس کیس کو خصوصی تحفظ درکار ہے اور اس حوالے سے حکومت بلوچستان کے ساتھ ہم آہنگی کرے گی۔
اپوزیشن جماعت اسلامی کے رہنما مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ یہ قانون انسانی حقوق اور انصاف کا قتل ہے، ’’اب انصاف واٹس ایپ پر ہوگا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس قانون کے تحت کوئی بے گناہ مارا گیا تو اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہوگی۔ ان کے مطابق عدلیہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے قوانین لانے کی۔
وزیراعلیٰ میر سر فراز بگٹی نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون سیاسی کارکنوں کے خلاف نہیں بلکہ صرف دہشت گردوں کو قانون کے مطابق سزا دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بل منصفانہ ٹرائل کے حق سے انکار نہیں کرتا اور وکلائے صفائی کو ججوں کے سامنے گواہوں تک رسائی ہوگی۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو قانون سازی کے ذریعے مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور کسی بھی گرفتار شخص کی اطلاع فوراً اہلِ خانہ اور مجسٹریٹ کو دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس سال 35 ہزار ایکڑ پوست کی فصل تباہ کی گئی ہے، افغان کاشتکاروں کو دی گئی زمینیں ضبط کی جائیں گی اور غیر قانونی ٹرالرنگ کو ختم کیا جائے گا جسے انہوں نے ’’دہشت گردی کی ایک اور شکل‘‘ قرار دیا۔
مزید برآں، بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان فرانزک سائنس (ترمیمی) بل 2025 اور بلوچستان لیویز فورس بل 2025 بھی منظور کیا، جس کے تحت لیویز فورس کو صوبائی پولیس میں ضم کر دیا جائے گا۔ مولانا ہدایت الرحمان نے اس پر مزید مشاورت کا مطالبہ کیا، تاہم صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی تھی مگر انہیں شرکت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

