منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامینوجوانوں میں موٹاپا اب غذائی قلت کی سب سے بڑی شکل: یونیسیف

نوجوانوں میں موٹاپا اب غذائی قلت کی سب سے بڑی شکل: یونیسیف
ن

الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کی دستیابی اور جارحانہ مارکیٹنگ وبا کو بڑھا رہی ہے

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)–یونیسیف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بچوں اور نوجوانوں میں پہلی بار دنیا بھر میں موٹاپا غذائی قلت کی سب سے بڑی شکل کے طور پر ابھرا ہے۔ پانچ سے انیس سال کی عمر کے تقریباً ہر دس میں سے ایک بچہ اس دائمی بیماری کا شکار ہے۔

منگل کو جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کی آسان دستیابی — حتیٰ کہ ان ممالک میں بھی جہاں اب بھی بچوں کی کم غذائیت کا مسئلہ موجود ہے — اور غیر صحت مند مصنوعات کی جارحانہ مارکیٹنگ نے اس رجحان کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔

یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کے مطابق اب غذائی قلت کا مطلب صرف کم وزن والے بچے نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ الٹرا پروسیسڈ غذائیں تیزی سے پھلوں، سبزیوں اور پروٹین کی جگہ لے رہی ہیں، ایسے وقت میں جب غذائیت بچوں کی نشوونما، ذہنی صلاحیتوں اور دماغی صحت کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

خطرناک اعداد و شمار

رپورٹ کے مطابق 2000 سے 2022 کے درمیان پانچ سے انیس سال کے بچوں میں کم وزن کے شکار افراد کی شرح 13 فیصد سے گھٹ کر 10 فیصد ہوگئی۔ تاہم اسی مدت میں زیادہ وزن والے بچوں کی تعداد تقریباً دگنی ہو کر 194 ملین سے بڑھ کر 391 ملین ہوگئی۔

موٹاپے کے کیسز میں اضافہ اس سے بھی زیادہ شدید ہے۔ یہ نہ صرف زیادہ وزن کی ایک سنگین شکل ہے بلکہ ذیابیطس، کینسر کی کچھ اقسام، اضطراب اور ڈپریشن جیسے امراض سے جڑا ہوا ہے۔

سال 2022 میں دنیا بھر کے آٹھ فیصد نوجوان، یعنی 163 ملین بچے موٹاپے کا شکار تھے، جب کہ 2000 میں یہ شرح صرف تین فیصد تھی۔ اس سال یونیسیف کے مطابق ایک “تاریخی موڑ” آیا ہے، کیونکہ نوجوانوں میں موٹاپے کی عالمی شرح 9.4 فیصد ہوکر کم وزن کی شرح 9.2 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں 188 ملین بچے اور نوجوان موٹاپے کے مریض ہیں۔

ذمہ دار کون؟

یونیسیف نے اس وبا کا ذمہ دار والدین یا بچوں کو نہیں بلکہ غیر اخلاقی کاروباری طریقوں کو قرار دیا ہے۔ یونیسیف کی ماہر قانون غذائیت کیتھرین شاٹس کے مطابق، بچوں کو اسکولوں میں میٹھے مشروبات اور نمکین اسنیکس سمیت جنک فوڈ کی غیر صحت مند مارکیٹنگ سے گھیر لیا جاتا ہے۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ ان مصنوعات کی قیمت اکثر تازہ پھلوں، سبزیوں اور پروٹینز سے کم ہوتی ہے، جس کے باعث یہ غذائیں آہستہ آہستہ گھریلو خوراک میں بنیادی مقام حاصل کر رہی ہیں۔

رپورٹ میں زور دیا گیا کہ اس صورتحال کا قصور بچوں یا والدین کا نہیں بلکہ “سماج کی ناکامی ہے کہ وہ بچوں کے لیے محفوظ غذائی ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے”۔

امیر اور غریب ممالک میں فرق کم

ماضی میں ترقی یافتہ ممالک میں موٹاپے کی شرح زیادہ تھی اور اب بھی بعض ممالک میں یہ بلند ہے، مثلاً چلی میں پانچ سے انیس سال کے بچوں میں 27 فیصد اور امریکہ میں 21 فیصد۔ تاہم 2000 کے بعد سے امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق تیزی سے کم ہوا ہے۔

کچھ پیسیفک جزیروں میں درآمد شدہ پروسیسڈ غذاؤں نے روایتی خوراک کو بدل دیا ہے، جس سے موٹاپے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بعض ممالک اب دوہرے بحران کا شکار ہیں جہاں ایک طرف بچوں میں کم غذائیت کا مسئلہ ہے اور دوسری طرف موٹاپا بڑھ رہا ہے۔

یونیسیف کی سفارشات

یونیسیف نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو غیر صحت مند مصنوعات کی مارکیٹنگ سے بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں، جن میں شامل ہیں:

جنک فوڈ اور میٹھے مشروبات کے اشتہارات پر پابندی

غیر صحت مند مصنوعات پر ٹیکس کا نفاذ

تازہ پھل، سبزیوں اور پروٹین کی پیداوار بڑھانے کے لیے پالیسی سازی

یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپا دنیا بھر کے لیے ایک شدید صحت عامہ کے بحران میں بدل سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین