میکرون حکومت اور کفایت شعاری پالیسیوں کے خلاف مظاہروں کے دوران 80 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات
پیرس (مشرق نامہ) – فرانسیسی پولیس نے ملک بھر میں جاری ان مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا جو بائیں بازو کی قوتوں کی قیادت میں ’سب کچھ روک دو‘ کے نعرے کے تحت منظم کیے گئے ہیں۔
بدھ کی صبح تک دو سو سے زائد افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی جب مظاہرین نے ردی کے ڈبوں کو آگ لگا دی، شاہراہیں بند کیں اور صدر ایمانوئیل میکرون کی حکومت کے خلاف شدید سیاسی بحران کے دوران اپنا غصہ نکالا۔
ملک بھر میں تعینات 80 ہزار پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یہ مظاہرے ایک عوامی تحریک کا حصہ ہیں جسے فرانسیسی میں “Bloquons Tout” یعنی ’سب کچھ روک دو‘ کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کے تحت ہڑتالیں، شاہراہوں کی ناکہ بندی اور دیگر احتجاجی اقدامات کے ذریعے حکومت اور اس کی کفایت شعاری پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ برونو ریٹیلو کے مطابق مغربی شہر رین میں ایک بس کو آگ لگا دی گئی جبکہ جنوب مغرب میں ایک بجلی کی لائن کو نقصان پہنچنے کے باعث ٹرین سروس معطل ہو گئی۔ تاہم، ان مظاہروں کو اب تک میکرون کے خلاف ماضی میں ہونے والی شورش کے مقابلے میں نسبتاً پرامن قرار دیا جا رہا ہے۔
’سب کچھ روک دو‘ کا منصوبہ اس وقت سامنے آیا جب سابق وزیر اعظم فرانسوا بایرو پیر کے روز اعتماد کا ووٹ ہار گئے اور صدر میکرون نے ان کے قریبی ساتھی، وزیر دفاع سباستیان لیکورن کو نیا وزیر اعظم مقرر کر دیا۔ لیکورن دو برسوں میں پانچویں وزیر اعظم ہیں جبکہ پچھلے بارہ مہینوں میں یہ چوتھی تقرری ہے۔
لیون میں ایک مظاہرین فلوران نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ میکرون کا اپنے قریبی ساتھی کو وزیر اعظم بنانا عوام کے لیے "چہرے پر تھپڑ کے مترادف” ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ "ہم ان کی یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں سے تنگ آ چکے ہیں، ہمیں تبدیلی چاہیے”۔
’سب کچھ روک دو‘ تحریک سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو چکی ہے۔ اس میں اضافہ ان کفایت شعاری پالیسیوں پر عوامی غم و غصے سے ہوا ہے جن کی وکالت بایرو کرتے رہے، جبکہ غربت اور عدم مساوات میں حالیہ برسوں میں ہونے والے اضافے نے اس بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ تحریک اپنی غیر متوقع اور خود رو نوعیت کے باعث 2018 کی ’ییلو ویسٹ‘ (پیلی جیکٹ) تحریک کی یاد دلاتی ہے جس نے میکرون کی پہلی صدارتی مدت کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جب ایندھن کی قیمتوں اور کاروبار دوست پالیسیوں کے خلاف ہفتوں تک شدید اور بعض اوقات پُرتشدد احتجاج ہوتے رہے۔

