سیدی بو سعید(مشرق نامہ) (تیونس)، 10 ستمبر (رائٹرز) — غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا نے بدھ کے روز کہا کہ اس کی ایک کشتی پر تیونسی بندرگاہ میں ڈرون سے حملہ کیا گیا، جو دو دن میں دوسرا حملہ ہے۔
فلوٹیلا، جس کا مقصد اسرائیلی بحری ناکہ بندی کو توڑ کر جنگ زدہ غزہ میں انسانی امداد پہنچانا ہے، نے بیان میں کہا کہ تمام مسافر اور عملہ محفوظ ہیں۔
منگل کو بھی ایک کشتی پر سیدی بو سعید بندرگاہ کے قریب حملے کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم تیونسی حکام نے ان رپورٹس کی تردید کی تھی۔ ایک منتظم نے الزام لگایا کہ یہ حملے اسرائیل نے کیے ہیں۔ ان کے بقول: "اسرائیل مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ہم ناکہ بندی توڑنے کے لیے ضرور روانہ ہوں گے۔”
اسرائیلی فوج نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ فلوٹیلا نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں ایک روشن شے کشتی سے ٹکراتی ہے اور اوپر آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ رائٹرز اس ویڈیو کی فوری تصدیق نہیں کر سکا۔
حملے کے بعد سیکڑوں افراد بندرگاہ کے قریب جمع ہوئے، فلسطینی پرچم لہرائے اور اسرائیل و امریکا کے خلاف نعرے لگائے۔ گروپ نے کہا کہ برطانوی پرچم والی کشتی "الما” کے اوپری حصے کو آگ سے نقصان پہنچا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق متعدد ایمبولینسیں بندرگاہ پر پہنچیں اور کوسٹ گارڈ کی کشتیاں بھی "الما” کے قریب دیکھی گئیں۔ فلوٹیلا میں 44 ممالک کے نمائندے شامل ہیں، جن میں سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ اور پرتگالی سیاستدان ماریانا مورٹاگوا بھی شامل ہیں۔
اسرائیل نے 2007 میں حماس کے غزہ پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔ موجودہ جنگ، جو اکتوبر 2023 میں حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی، میں اب تک 64 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس حملے میں 1,200 افراد ہلاک اور تقریباً 250 یرغمال بنائے گئے تھے۔
مارچ میں اسرائیل نے زمینی راستے بھی بند کر دیے، جس کے نتیجے میں تین ماہ تک کوئی امدادی سامان غزہ میں داخل نہ ہو سکا اور قحط کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ متعدد ماہرین نے اسرائیلی کارروائی کو نسل کشی قرار دیا ہے۔
جون میں اسرائیلی بحریہ نے ایک برطانوی پرچم والی کشتی بھی پکڑی تھی، جس میں گریٹا تھنبرگ بھی سوار تھیں۔ اسرائیل نے اسے حماس کے حق میں "پروپیگنڈا اسٹنٹ” قرار دیا تھا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کے مطابق: "یہ بار بار حملے اسرائیلی جارحیت کا تسلسل ہیں اور ہماری مشن کو روکنے کی ایک کوشش ہیں، لیکن ہم اپنے مقصد پر قائم ہیں۔”

