یروشلم (مشرق نامہ) – اسرائیل نے غزہ پر جاری جنگ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی پالیسیوں پر شدید تنقید کے بعد ہسپانوی حکومت کے دو اعلیٰ عہدیداروں پر ذاتی پابندیاں عائد کرتے ہوئے اُن کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ خارجہ گدعون ساعر نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل ہسپانوی نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ محنت یولانڈا ڈایاز سے کسی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں رکھے گا، اور انہیں اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ڈایاز ہسپانوی کمیونسٹ پارٹی کی رکن ہیں اور اسرائیلی جنگی کارروائیوں اور لبنان کے ساتھ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں پر کھل کر تنقید کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں اور اسلحہ کی فراہمی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
ساعر نے مزید کہا کہ اسی نوعیت کی پابندیاں ہسپانوی وزیر برائے اطفال و نوجوانان سیرا راگو پر بھی عائد کی جا رہی ہیں، جو اسی جماعت سے تعلق رکھتی ہیں۔ راگو نے اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کے باعث ایک "نسل کش ریاست” قرار دیا تھا اور یورپی یونین سے اسرائیل کے ساتھ تمام تعلقات ختم کرنے اور اس پر اقتصادی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔
ساعر نے بتایا کہ غیر ملکی عہدیداروں پر مزید ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
ادھر پیر کو ہسپانوی وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں جاری قتل عام کو روکنے کے لیے نو نئے اقدامات کا اعلان کیا، جن میں اسرائیل کو اسلحہ کی برآمدات پر مستقل پابندی بھی شامل ہے۔

