صنعا (مشرق نامہ) – یمنی مسلح افواج نے 24 گھنٹوں کے اندر اسرائیل کے رامون ایئرپورٹ پر مسلسل دوسرا ڈرون حملہ کیا ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک اور ڈرون مبینہ طور پر دیمونا کے ایٹمی تحقیقی مرکز کی سمت بڑھ رہا تھا، جس کے بعد علاقے میں ہنگامی سائرن بجا دیے گئے۔
یمنی افواج نے اعلان کیا ہے کہ یہ کارروائیاں غزہ کے عوام کی حمایت اور اسرائیلی فضائی حملوں میں یمنی وزیرِاعظم اور متعدد وزرا کی شہادت کے جواب میں جاری ہیں۔
رامون ایئرپورٹ پر دھماکہ، فضائی حدود بند
اسرائیلی چینل 14 کے مطابق پیر کو یمنی ڈرون حملے کے نتیجے میں رامون ایئرپورٹ کے اندر زوردار دھماکہ ہوا، جس کی آواز دور دور تک سنائی دی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد اسرائیلی حکام نے ایئرپورٹ کے اطراف کی فضائی حدود بند کر دی اور الرٹ جاری کر دیا۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنوبی مقبوضہ علاقوں میں سائرن بجائے گئے جبکہ جنوبی نقب میں بھی اضافی الرٹس جاری کیے گئے، کیونکہ خدشہ تھا کہ ڈرون دیمونا ایٹمی تحقیقی مرکز اور روٹم انڈسٹریل زون کی طرف بڑھ رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی دفاعی نظام نے اس ڈرون کو راستے میں روک دیا۔
تین مختلف سمتوں سے ڈرون حملے
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تین یمنی ڈرونز مختلف راستوں سے اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ یمنی افواج کے مطابق ان حملوں کا مقصد اسرائیل کے متعدد حساس مقامات کو نشانہ بنانا تھا، جن میں رامون ایئرپورٹ کے علاوہ ام الرشراش (ایلات)، اشکلان، اسدود اور یافا شامل ہیں۔
یمنی افواج کی تنبیہ
یمنی مسلح افواج نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر موجود تمام ایئرپورٹس محفوظ نہیں اور ان پر مسلسل حملے کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ نقصان کی ذمہ داری ایئرلائنز پر عائد ہوگی، کیونکہ انہیں پیشگی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل میں علامتی دباؤ میں اضافہ
اسرائیلی روزنامہ معاریو کے مطابق 7 ستمبر کے ڈرون حملے نے رامون ایئرپورٹ کے آگمن ہال کو براہِ راست نشانہ بنایا، جس سے ایئر ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اگرچہ حملے سے جسمانی نقصان محدود تھا، لیکن اس کے اخلاقی اور علامتی اثرات انتہائی سنگین ہیں، کیونکہ اس سے غیر ملکی ایئرلائنز کی پروازوں کے مستقبل پر شدید سوالات اٹھ گئے ہیں۔
معاریو نے یاد دلایا کہ گزشتہ مئی میں یمنی میزائل نے بن گوریون ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد اسرائیلی حکام کو غیر ملکی ایئرلائنز کے سربراہان کو قائل کرنا پڑا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطین کے لیے پروازیں بحال کریں۔ تازہ حملہ دوبارہ فضائی کمپنیوں کے اعتماد کو متزلزل کر سکتا ہے۔

