مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– دمشق نے اسرائیل کے تازہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں شام کی خودمختاری پر “کھلی جارحیت” اور “علاقائی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ” قرار دیا ہے۔
شامی وزارتِ خارجہ نے منگل کی صبح جاری بیان میں کہا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے مغربی شہر ہمص اور ساحلی شہر لاذقیہ میں متعدد مقامات پر بمباری کی۔ شامی خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق یہ حملے شام کی خودمختاری کی “صریح خلاف ورزی” اور بین الاقوامی قوانین و اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلم کھلا پامالی ہیں۔
سانا نے حملوں کے حجم یا جانی نقصان سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے ہمص میں شامی فضائیہ کے ایک اڈے پر حملہ کیا، جہاں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ لاذقیہ میں بھی ایک فوجی بیرک پر فضائی بمباری کی گئی، جہاں مقامی رہائشیوں کے مطابق ایمبولینسوں کی آمد و رفت دیکھی گئی، تاہم ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی اطلاع نہیں ملی۔
شامی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ “یہ حملے اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے تسلسل کا حصہ ہیں، جو شام کی خودمختاری کو کمزور کرنے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔” دمشق نے عالمی برادری اور بالخصوص اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے “فیصلہ کن اور واضح موقف” اختیار کرے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بشارالاسد کی حکومت کے زوال کے بعد شام میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور صرف اس سال اب تک تقریباً 100 حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں 86 فضائی بمباری اور 11 زمینی کارروائیاں شامل ہیں۔ ان حملوں میں 135 فوجی تنصیبات تباہ اور کم از کم 61 افراد ہلاک ہوئے۔
دسمبر 2024 میں بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد محض تین ہفتوں کے دوران اسرائیل نے شام بھر میں 500 سے زائد فضائی حملے کیے تھے۔
حالیہ مہینوں میں اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق، جنوبی علاقوں اور حتیٰ کہ شامی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے بھی کیے ہیں۔ اگست کے اواخر میں دمشق پر اسرائیلی ڈرون حملے میں چھ شامی فوجی ہلاک ہوئے، جب کہ اس سے ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے شامی سرزمین پر زمینی دراندازی بھی کی تھی۔
یہ حملے اس وقت ہو رہے ہیں جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت “گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کو فروغ دے رہی ہے، جس کے تحت نہ صرف مقبوضہ غربِ اردن اور غزہ بلکہ لبنان، شام، مصر اور اردن کے بعض حصوں پر بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
شامی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی جارحیت نہ رکی تو اس کے نتائج پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین ہوں گے۔

