منگل, فروری 17, 2026
ہومنقطہ نظرامریکی میڈیا کی پسپائی کوئی انحراف نہیں

امریکی میڈیا کی پسپائی کوئی انحراف نہیں
ا

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی جمہوریت کی پرانی کمزوریاں بے نقاب کر دی ہیں۔

مصنف: محمد المصری

امریکی جمہوریت حالیہ تاریخ کے کسی بھی دور سے کہیں زیادہ خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ریپبلکن اتحادی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی عوام دوبارہ کبھی بھی حقیقی آزاد اور منصفانہ انتخابات میں حصہ نہ لے سکیں، بلکہ سرکاری عہدیداران اور ٹرمپ کے حامی میڈیا شخصیات بھی معلوماتی ماحول کو غیر معمولی پیمانے پر قابو میں لے کر اس کی تشکیلِ نو کر رہے ہیں۔

نکتہ یہ نہیں کہ معلومات غائب ہو جاتی ہیں؛ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ معلومات کو منتخب کرتے ہیں، اس میں تاخیر کرتے ہیں اور اسے اپنی مرضی کے مطابق موڑ دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر متنازعہ "ایپسٹین فائلز” کو لیجیے، جو متوفی فنانسر جیفری ایپسٹین کے بچوں کی اسمگلنگ سے متعلق تحقیقات سے وابستہ ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ان فائلز کو دبا دینے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔

فروری کے اوائل میں اٹارنی جنرل پام بونڈی نے فاکس نیوز پر شفافیت کا وعدہ کیا تھا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ایپسٹین کے مؤکلین کی فہرست "فی الوقت ان کی میز پر موجود” ہے۔

تاہم چند ہفتوں بعد بونڈی اور ان کی زیر نگرانی امریکی محکمہ انصاف نے اچانک یوٹرن لے لیا: انہوں نے ایپسٹین فائلز کا "پہلا مرحلہ” جاری کیا، مگر یہ اجراء بقول ناقدین "زیادہ تر سیاہ سطروں سے بھرا ہوا بے معنی مواد” نکلا۔ جولائی میں بونڈی نے مؤکلین کی فہرست پر مکمل طور پر دروازہ بند کر دیا اور حکام نے واضح کر دیا کہ مزید کوئی ایپسٹین فائلز عوام کے سامنے نہیں لائی جائیں گی۔

بہت سے مبصرین نے بجا طور پر نتیجہ اخذ کیا کہ بونڈی دراصل ٹرمپ کا تحفظ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر مئی میں ان فائلز میں ان کے بار بار ذکر کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔

یہ شبہ مزید اس وقت گہرا گیا جب ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے ایپسٹین فائلز کے اجراء پر ووٹنگ روکنے کے لیے کانگریس کا اجلاس مؤخر کر دیا، اور ساتھ ہی ایک مایوس کن کوشش میں ٹرمپ کو ایف بی آئی کے "مخبر” کے طور پر پیش کرنے کی مہم بھی چلائی، جو مبینہ طور پر ایپسٹین کو بے نقاب کرنے پر کام کر رہے تھے۔ مجموعی طور پر یہ سب کچھ شفافیت کے بجائے امریکی تاریخ کے سب سے بڑے حکومتی پردہ پوشی کے واقعات میں سے ایک معلوم ہوتا ہے۔

یہ طرزِ عمل ایک بڑے آمرانہ منصوبے کا حصہ معلوم ہوتا ہے: ٹرمپ نے نہ صرف ایگزیکٹو اختیارات کو غیر معمولی طور پر مرکزیت دی ہے بلکہ امیگریشن کے نظام کو عسکری رنگ بھی دیا ہے اور بار بار ہنگامی اختیارات کا استعمال کیا ہے، جو امریکی آئین کو کمزور کرنے والے اقدامات ہیں۔

اسی آمرانہ ذہنیت کا اظہار اختلافِ رائے کو دبانے اور اظہارِ رائے کی حدود کو محدود کرنے کی کوششوں میں بھی ہوتا ہے۔

میڈیا — جسے جمہوریت کا "چوتھا ستون” کہا جاتا ہے — نے بعض مواقع پر ٹرمپ کے حد سے بڑھے اقدامات کا مقابلہ کیا ہے۔ لیکن اکثر اوقات میڈیا نے وائٹ ہاؤس کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ دسمبر 2024 میں، یہاں تک کہ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے، اے بی سی نیوز نے ان کے ساتھ ہتک عزت کے ایک مقدمے کا تصفیہ کر لیا اور انہیں 15 ملین ڈالر ادا کیے۔

سات ماہ بعد، پیراماؤنٹ — جو سی بی ایس نیوز کی ماتحت کمپنی ہے — نے بھی ایک مقدمے کا تصفیہ کر لیا جسے ماہرین کے مطابق وہ آسانی سے جیت سکتا تھا؛ اس نے ٹرمپ کو 16 ملین ڈالر ادا کیے۔ وہ اینکرز اور ٹاک شو ہوسٹ جنہوں نے ٹرمپ پر زیادہ تنقید کی تھی، انہیں خاموشی سے ہٹا دیا گیا، کیونکہ نیوز رومز نے امریکی صدر کو ناراض کرنے سے بچنے کے لیے اپنی پالیسیوں کو دائیں بازو کی طرف موڑ دیا۔

پیراماؤنٹ اس تبدیلی میں سب سے زیادہ واضح تھا۔ اسکائی ڈانس میڈیا کے ساتھ ایک بڑے انضمام کے دوران، کمپنی نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی پالیسیوں سے تنوع، مساوات اور شمولیت (DEI) کے اصولوں کو ختم کر دے گی۔ نئی کمپنی "دی فری پریس” حاصل کر رہی ہے اور اس کی قدامت پسند بانی باری وائس کو ایک اہم اداراتی منصب پر فائز کر رہی ہے؛ کمپنی نے "جانبداری کے خاتمے” کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے دباؤ کے سامنے جھکنے کے علاوہ، امریکی صحافت نے پہلی ترمیم کے تحت محفوظ اظہارِ رائے پر حملوں کے خلاف بھی خاطر خواہ مزاحمت نہیں دکھائی — خاص طور پر اسرائیل سے متعلق اظہارِ رائے کے معاملے پر۔

اسرائیل کی جانب سے صحافت پر جنگ چھیڑ دی گئی ہے، جس میں غزہ میں بین الاقوامی صحافیوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع کر دیا گیا ہے اور 270 سے زائد میڈیا ورکرز کو قتل کیا جا چکا ہے۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں جب اسرائیل نے غزہ کے ایک اسپتال میں کئی فلسطینی صحافیوں کو قتل کر دیا تو امریکی صحافی جیریمی سکیل نے امریکی اور دیگر مغربی میڈیا اداروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا:
"میں اپنی پیشہ ورانہ برادری پر کبھی اتنا شرمندہ نہیں ہوا… یہ خون اُن مغربی میڈیا اداروں کے ہاتھوں پر ہے جنہوں نے منظم طریقے سے فلسطینیوں کو غیر انسانی بنایا اور اسرائیلی حکومت کے جھوٹ کو پروپیگنڈا کے طور پر آگے بڑھایا… ہماری پیشہ ورانہ دنیا پر افسوس ہے۔”

اسرائیل کے جانب سے صحافیوں پر پابندی یا فلسطینی میڈیا ورکرز کے منظم قتل کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے، امریکی مرکزی دھارے کے میڈیا ادارے بڑی حد تک فلسطینیوں کو غیر انسانی بنانے اور اسرائیلی بیانیے کو تقویت دینے میں مصروف رہے ہیں۔ متعدد تحقیقی مطالعات نے رپورٹنگ میں اسرائیل کے حق میں پائی جانے والی مستقل جانبداری کو دستاویزی شکل دی ہے، خاص طور پر حوالہ جات کے انتخاب، متاثرین کی انسانی حیثیت کے پیش کرنے اور بیانیے کی تشکیل کے حوالے سے۔

یہ سب کچھ ان لوگوں کے لیے حیران کن نہیں جو قریب سے حالات کا جائزہ لیتے رہے ہیں۔

ماہرین طویل عرصے سے دلیل دیتے آئے ہیں کہ امریکی سیاسی نظام حقیقی جمہوریت کے کسی بھی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا، اور امریکی میڈیا مکمل طور پر آزاد نہیں بلکہ ریاستی و کارپوریٹ طاقت کے ڈھانچے میں گہرائی تک پیوست ہے۔

میڈیا کے ممتاز محقق جے ہربرٹ آلٹسشل نے ایک بار کہا تھا کہ "طاقتور کبھی بھی آزاد صحافت کے تصور سے خوش نہیں رہے”۔ سماجی سائنسدان رابرٹ اینٹ مین نے اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ کہا کہ "حکومتی ذرائع اور صحافی ایک ایسی قربت میں بندھے ہوتے ہیں جو کسی بھی حقیقی معنوں میں ’آزاد‘ پریس کے تصور کو غلط ثابت کر دیتی ہے۔”

اس لحاظ سے، ٹرمپ کے دورِ حکومت کو انحراف نہیں بلکہ ایک تیز تر تسلسل قرار دیا جا سکتا ہے۔ موجودہ انتظامیہ اور اس کے اتحادی اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں معلومات پر قابو پانے، اختلافی آوازوں کو سزا دینے اور کارپوریٹ میڈیا کو دوبارہ تشکیل دینے کے معاملے میں کہیں زیادہ جارحانہ اور واضح انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکی جمہوریت ہمیشہ سے زیادہ تر ایک سراب رہی ہے۔ آزاد اور منصفانہ انتخابات، مؤثر احتسابی نظام، اور حقیقی معنوں میں آزاد پریس ہمیشہ سے نازک اور کمزور رہے ہیں، زیادہ تر ایک دعوے سے بڑھ کر نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب ان دعووں کے زوال کی رفتار کہیں زیادہ تیز اور واضح ہو چکی ہے۔

معلومات کی ہیرا پھیری، اختلافی آراء کو مجرمانہ بنانا اور کارپوریٹ میڈیا کو ساتھ ملانا کوئی حادثاتی عوامل نہیں بلکہ وہ طریقہ کار ہیں جن کے ذریعے جمہوریت مزید کھوکھلی ہو رہی ہے۔

جب تک ٹرمپ انتظامیہ کو لگام نہیں دی جاتی — اور جب تک امریکی صحافت اپنے دعوے کردہ اصولوں پر عمل پیرا نہیں ہوتی — تب تک امریکی عوام کے پاس بحران زدہ جمہوریت نہیں بلکہ اس کا محض ایک خالی خول رہ جائے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین