منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیسوڈان کا خانہ جنگی کے بعد خرطوم سے افواج کا انخلا

سوڈان کا خانہ جنگی کے بعد خرطوم سے افواج کا انخلا
س

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– سوڈان کی عبوری حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت خرطوم سے فوجی دستے واپس بلا لیے گئے ہیں تاکہ دو سال سے زائد عرصے تک جاری خانہ جنگی کے بعد شہر چھوڑنے والے شہریوں کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔

عبوری حکومت کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا کہ ریاست کی 98 فیصد جنگی فورسز، یعنی 3,000 سے زائد جنگجو، خرطوم سے واپس بلا کر دیگر علاقوں میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔ دارالحکومت کی تعمیرِ نو کی نگران کمیٹی کے سربراہ ابراہیم جابر نے صحافیوں کو بتایا کہ باقی ماندہ فورسز کو بھی جلد ہٹا دیا جائے گا، جبکہ پولیس کو مختلف علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

سوڈانی خبررساں ادارے سونا کے مطابق تمام پولیس رپورٹ دفاتر اور عوامی خدمت کے مراکز کھول دیے گئے ہیں۔ پولیس کو خرطوم کے 13 اہم داخلی و خارجی راستوں پر تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ امدادی ٹرک بھی شہر میں داخل ہو رہے ہیں۔

یہ انخلا اس وقت عمل میں آیا ہے جب مسلح گروہوں اور بدمعاش عناصر کی سرگرمیوں کے باعث خرطوم کے ساتوں علاقوں کے مکینوں نے آئے دن ہونے والی ڈکیتیوں اور لوٹ مار پر شدید تحفظات ظاہر کیے تھے۔

سوڈان گزشتہ دو برس سے شدید خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے، جو نیم فوجی فورس ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) اور سوڈانی مسلح افواج (SAF) کے درمیان اپریل 2023 میں شروع ہوئی۔ دونوں فریق اقتدار کے حصول کے لیے برسرپیکار ہیں، جبکہ ملک میں سول حکومت کے قیام کا عبوری عمل تعطل کا شکار ہے۔

اقوامِ متحدہ نے سوڈان کی صورتحال کو دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مہاجرین کے ادارے UNHCR کے مطابق رواں ماہ تک ملک بھر سے 1 کروڑ 19 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

مارچ میں سوڈانی فوج کے سربراہ اور de facto رہنما جنرل عبدالفتاح البرہان نے اعلان کیا تھا کہ خرطوم کو "آزاد” کروا لیا گیا ہے، جب فوج نے بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت اہم فوجی و سول تنصیبات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

گزشتہ ماہ حکام نے اعلان کیا تھا کہ خانہ جنگی کے دوران تباہ ہونے والی سڑکوں، پلوں اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تعمیر نو کی جائے گی۔ فوج نے اس موقع پر خرطوم کے قریب 4,500 بارودی سرنگیں اور گولے بھی ناکارہ بنائے ہیں۔

مزید برآں، عبوری حکومت نے دارالحکومت میں نئی سیکیورٹی پابندیاں متعارف کرائی ہیں، جن میں عوامی مقامات پر اسلحہ لے جانے پر پابندی، غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور فوجی وردی کے استعمال پر سختی شامل ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین