کاٹھمنڈو (مشرق نامہ) – نیپال کے وزیرِاعظم کے پی شرما اولی نے منگل کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، کیونکہ ملک کے دارالحکومت کٹھمنڈو سمیت مختلف علاقوں میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی تھی۔
نیپالی فوج نے تصدیق کی کہ وزیرِاعظم اور چھ وزرا کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا، بعد ازاں مظاہرین نے وزیرِاعظم اور نائب صدر کی رہائش گاہوں کو آگ لگا دی۔
یہ حکومت مخالف اور بدعنوانی کے خلاف احتجاج اُس وقت پُرتشدد شکل اختیار کر گئے جب پیر کو حکومت نے فیس بک، یوٹیوب اور ایکس سمیت کئی بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی تھی۔ منگل کو یہ پابندی ہٹا دی گئی، لیکن اس دوران حالات مزید بگڑ گئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق کٹھمنڈو میں پارلیمنٹ کی عمارت کو بھی مظاہرین نے آگ لگا دی جبکہ وزرا کے گھروں میں لوٹ مار کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
یہ مظاہرے زیادہ تر نوجوانوں کی قیادت میں کیے جا رہے ہیں جن کی عمریں عموماً 20 برس سے کم بتائی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق صرف کٹھمنڈو میں 19 افراد ہلاک اور تقریباً 400 زخمی ہوئے، جن میں 100 سے زائد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ایک 20 سالہ مظاہرین نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ پُرامن احتجاج میں شریک ہوا تھا، لیکن حکومت نے جواب میں طاقت کا استعمال کیا۔
نیپال میں حالیہ ہنگامہ آرائی کو گزشتہ کئی دہائیوں کی بدترین صورتحال قرار دیا جا رہا ہے۔ 2008 میں ہندو بادشاہت کے خاتمے کے بعد سے ملک بارہا سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات کا شکار رہا ہے۔
روس کے سفارتخانے نے کٹھمنڈو میں موجود سیاحوں سے کہا ہے کہ وہ ہوٹلوں میں رابطہ افسران سے مل کر ملک سے نکلنے کے لیے تین متعین راستوں میں سے کسی کا انتخاب کریں۔
نیپال کے سیاحت بورڈ اور پولیس نے غیر ملکی شہریوں کے لیے خصوصی شٹل سروسز شروع کی ہیں، جو انہیں ہوائی اڈے تک لے جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی پروازیں اس وقت تک کٹھمنڈو ایئرپورٹ کے اوپر چکر لگاتی رہیں جب تک ائیرپورٹ کو منگل کے روز عارضی طور پر بند رکھا گیا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ نیپال کی صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور نوجوان مظاہرین کی ہلاکتوں پر شدید افسوس کا اظہار کرتی ہے۔

