منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیفلسطینی قیدیوں کو جان بوجھ کر خوراک سے محروم رکھا جا رہا...

فلسطینی قیدیوں کو جان بوجھ کر خوراک سے محروم رکھا جا رہا ہے، اسرائیلی سپریم کورٹ
ف

یروشلم (مشرق نامہ) – اسرائیل کی سپریم کورٹ نے ایک غیر معمولی فیصلے میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو جان بوجھ کر زندہ رہنے کے لیے درکار کم سے کم خوراک سے بھی محروم رکھ رہی ہے، جبکہ غزہ پر جاری جنگ کے دوران فلسطینیوں کو قید خانوں میں سخت ترین حالات کا سامنا ہے۔

اتوار کو تین رکنی بینچ نے متفقہ فیصلے میں قرار دیا کہ حکومت پر قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کو دن میں کم از کم تین وقت کا کھانا فراہم کرے تاکہ اُن کی "بنیادی بقا” ممکن ہو سکے۔

یہ مقدمہ دو اسرائیلی انسانی حقوق تنظیموں، ایسوسی ایشن فار سول رائٹس ان اسرائیل (ACRI) اور گیشا کی درخواست پر دائر کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے خوراک کی جان بوجھ کر پابندی کے باعث قیدیوں کو غذائی قلت اور بھوک کا سامنا ہے۔ عدالت نے دو کے مقابلے میں ایک کے فیصلے سے ان درخواست گزاروں کے مؤقف کو درست قرار دیا۔

رائے شماری کے دوران عدالت نے کہا کہ یہاں بات آرام دہ زندگی یا کسی عیش و عشرت کی نہیں، بلکہ قانون کے تحت درکار بقا کی بنیادی شرائط کی ہے۔ ہمیں اپنے بدترین دشمنوں کے طریقوں کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔

غزہ اور قید خانے — ایک مشترکہ المیہ

عدالت کے اس فیصلے کے وقت، غزہ میں فلسطینی عوام اسرائیل کی مسلط کردہ قحط سالی اور غذائی قلت کے سبب روزانہ بھوک سے مر رہے ہیں۔ گزشتہ 23 ماہ سے جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے سے ہزاروں فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے، جنہیں مبینہ "دہشت گردی” کے الزامات پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

رہائی پانے والے متعدد قیدیوں نے اسرائیلی حراستی مراکز میں سنگین حالات کا انکشاف کیا ہے، جن میں تشدد، جسمانی اذیت، بھوک، طبی سہولیات کی کمی، زیادہ بھیڑ، اور بیماریوں کا پھیلاؤ شامل ہیں۔

انتہا پسند وزرا کا ردعمل

فیصلے کے بعد اسرائیل کے دائیں بازو کے انتہا پسند قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے سپریم کورٹ پر کڑی تنقید کی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہمارے مغویوں کے پاس غزہ میں کوئی سپریم کورٹ نہیں جو ان کا تحفظ کرے۔

بن گویر نے مزید کہا کہ فلسطینی قیدیوں کو "قانون کے تحت درکار کم سے کم سہولیات” ہی فراہم کی جائیں گی۔

گزشتہ ماہ بن گویر نے اسرائیلی جیل میں قید طویل المدتی فلسطینی رہنما مروان برغوثی کے سیل کا دورہ کیا تھا اور انہیں طنزیہ جملوں سے چھیڑا تھا، جس پر فلسطینیوں اور انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں پر دباؤ

ACRI نے انکشاف کیا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران اس کے عملے کو اسرائیلی حکومت کے سینئر وزرا اور کنیسٹ کے انتہائی دائیں بازو کے اراکین کی طرف سے "مسلسل ہراسانی، زبانی حملوں اور دباؤ” کا سامنا رہا۔ تنظیم کے مطابق یہ رویہ "طاقت کے اظہار سے زیادہ مایوسی اور بوکھلاہٹ” کا عکاس تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین