بیجنگ(مشرق نامہ)، 8 ستمبر (اے پی پی):خشک سالی اور بنجر زمین برداشت کرنے والی فصلوں کی تیاری ناگزیر ہے، اور مکئی چونکہ دنیا کی ایک اہم غذائی فصل ہے اس لیے یہ بہترین انتخاب ہے، یہ بات حوبی ٹیکنیکل مارکیٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین پروفیسر یوان گوباؤ نے 5 ستمبر کو پاک-چین مکئی کی افزائش اور صنعتی ترقی کے تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد کہی۔
یہ ایم او یو حوبی یونیورسٹی ماڈرن ایگریکلچرل انوویشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (چین)، حوبی ڈی جین سیڈ کمپنی (چین)، پیٹرون سیڈز پرائیویٹ لمیٹڈ ملتان اور یونیورسٹی آف دی پنجاب کے ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس کے درمیان دستخط ہوا، جس کا فوکس بائیوٹیکنالوجی بریڈنگ، بیج کی پیداوار و پراسیسنگ، مظاہرے و فروغ اور مکئی کی صنعتی ترقی ہے۔
پروفیسر یوان، جو پاکستان کے موسمی، آبی اور مٹی کے حالات سے گہری واقفیت رکھتے ہیں اور 30 سے زائد بار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں، نے کہا کہ چین کو ہر سال 2 سے 3 کروڑ ٹن مکئی درآمد کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان اپنی بڑی زرعی صلاحیت کے ذریعے اچھی اقسام اور بہتر طریقوں کو ملا کر مکئی کی پیداوار میں 30 سے 50 فیصد اضافہ کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں زیادہ تر گرمی برداشت کرنے والی مکئی کی اقسام متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ چونکہ یہاں کا درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سیلسیس تک ہوتا ہے، اس لیے بیج بونے اور دانہ بھرنے کے مراحل کو مقامی آب و ہوا کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ مختلف خطوں کے موسمی فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے، چینی محققین عملی کاشت کے ذریعے موزوں ترین اقسام کا انتخاب کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ "مقامی بریڈنگ کے ذریعے ہی ہم سب سے موزوں اقسام تلاش کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم فصلوں کی جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی سے متعلق مقامی ماہرین تیار کریں گے، جو اس منصوبے کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔”
فریقین کے درمیان مکئی کی صنعتی اپ گریڈیشن پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مکئی کے بطور خوراک استعمال سے آگے بڑھتے ہوئے، اس کے بھوسے کو لائیوسٹاک انڈسٹری کے لیے زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔
پروفیسر یوان نے مزید کہا کہ "صنعتی اپ گریڈیشن کے لیے ضروری ہے کہ ہم روایتی کاشت ماڈل سے آگے بڑھیں۔ مثلاً، ہر اعلیٰ معیار کی قسم کے لیے خصوصی کھاد تیار کر کے اسے بیج کے ساتھ بیک وقت بویا جا سکتا ہے۔ مزدوری کے معاملے میں، پاکستان کے مقامی کسان شدید گرمی کے باعث کم کارکردگی دکھاتے ہیں، اس لیے ایسی زرعی مشینری تیار کی جا سکتی ہے جو انہیں گرمی کی شدت برداشت کیے بغیر اپنا کام مکمل کرنے میں مدد دے۔”

