اسلام آباد(مشرق نامہ):چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نئے عدالتی سال کے آغاز پر عدالت کے رفقاء سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف ان شعبوں کی نشاندہی کی جنہیں بہتری کی ضرورت ہے بلکہ ان اقدامات کو بھی اجاگر کیا جو سپریم کورٹ نے پہلے ہی شروع کر رکھے ہیں اور اب اُنہیں باضابطہ شکل دی جا رہی ہے۔
خطاب کا مرکزی نکتہ ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے عدالتی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا تھا۔ گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کس طرح عدالتوں کے "فنکشننگ” اور "انتظامی امور” کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے ٹیکنالوجی کے انضمام کے لیے پانچ ستون پیش کیے۔ پہلا یہ کہ "ٹیکنالوجی کے ذریعے سروس ڈیلیوری کو بہتر بنایا جائے — کاغذ کے کم استعمال سے کاغذ سے مکمل بےنیازی تک”۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پچھلے سال عدالت نے بتدریج ڈیجیٹل کیس فائلنگ جیسے اقدامات شروع کیے تھے، جس کے ذریعے اب کیس فائلیں آن لائن منتقل اور مکمل طور پر ٹریک کی جا سکتی ہیں۔ ای سروسز جیسے ای افیڈیویٹ اور احکامات کی ڈیجیٹل ترسیل بھی شروع ہو چکی ہیں۔ اب نوٹسز واٹس ایپ اور ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجے جائیں گے۔
دوسرا ستون عام شہری تک عدالت کے معاملات کی زیادہ سے زیادہ رسائی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے جو شہریوں کو بدعنوانی سے متعلق شکایات محفوظ اور گمنام طریقے سے درج کرانے کا موقع دے گی۔ ہر شکایت کو اس کی نوعیت کے مطابق 30 سے 60 دنوں میں حل کیا جائے گا۔
مالیاتی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا گیا کہ 2024-25 کے دوران عدالت کے اکاؤنٹس کا بیرونی آڈٹ کیا گیا ہے، جس میں سامنے آنے والے خدشات پر کارروائی جاری ہے۔
تیسرا ستون "قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط کرنا” ہے، جس کا تعلق عدالت کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے اقدامات سے ہے۔ عدالت کے 61 ہزار مقدمات کی فائلیں ڈیجیٹل اسکین کی جائیں گی اور یہ منصوبہ چھ ماہ میں مکمل ہو گا۔ اسکیننگ کے بعد اے آئی کے ذریعے مقدمات کی شیڈولنگ جیسے کام کیے جائیں گے۔
چیف جسٹس نے مزید بتایا کہ جج صاحبان عدالتی رخصت کے دوران سفر کر سکتے ہیں، تاہم عام چھٹی کے لیے انتظامیہ کو آگاہ کرنا لازم ہوگا۔ ان ایس او پیز کے تحت عدالت کے ریسٹ ہاؤسز، گاڑیوں اور ججوں کی رخصت کے معاملات کو بھی منظم کیا جائے گا۔

