کراچی(مشرق نامہ):فلسطینی کہانیاں اب عالمی فلمی میلوں کے منظرنامے پر ابھر رہی ہیں اور شائقین کو جنگ اور یادداشت کے کڑوے سچ کا سامنا کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ جو فلمیں کبھی حد سے زیادہ سیاسی، متنازع یا غیر اہم سمجھی جاتی تھیں، وہ آج غزہ میں جاری نسل کُشی کے پس منظر میں عالمی سینما کا فوری اور لازمی حصہ بن گئی ہیں۔
اس سال "نو اَدر لینڈ” کے آسکر ایوارڈ برائے بہترین دستاویزی فلم جیتنے نے ایک طرف فلسطینی فلمی دنیا کے لیے بڑی کامیابی دی، تو دوسری طرف یہ یاد دہانی بھی بن گیا کہ فلسطینی کہانیاں ابھی بھی کئی رکاوٹوں سے دوچار ہیں۔ فلم نے امریکی ڈسٹریبیوٹر ڈھونڈنے میں مشکلات کا سامنا کیا، یہاں تک کہ میامی بیچ کے میئر نے اسے "پروپیگنڈا” قرار دیا اور اس کی نمائش پر پابندی لگانے کی کوشش کی۔ مگر عوامی دباؤ کے باوجود یہ فلم مقبول ہوئی اور امریکا میں 25 لاکھ ڈالر کمائے۔
اب منظر بدل رہا ہے۔ فلسطینی موضوعات پر بننے والی فلمیں عالمی مارکیٹ میں مانگ کا مرکز ہیں۔ انماری جاسر کی فلم "فلسطین 36″، چرین دبیس کی "آل دیٹز لیفٹ آف یو”، اور تونسی ہدایتکار کاوثر بن ہانیہ کی "دی وائس آف ہند رجاب” اس وقت دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہیں۔ خاص طور پر "دی وائس آف ہند رجاب” کو وینس میں شاندار پذیرائی ملی، جو ایک چھ سالہ بچی کی اسرائیلی بمباری میں شہادت کی کہانی بیان کرتی ہے۔
فلسطینی نژاد ڈسٹریبیوٹرز کا کہنا ہے کہ یہ صرف کاروبار نہیں بلکہ سیاسی جدوجہد بھی ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی بیانیے کو بدل دیا ہے، جو مناظر کبھی دب جاتے تھے وہ اب دنیا کے سامنے ہیں۔
تاہم امریکا میں مشکلات اب بھی موجود ہیں، کیونکہ ڈسٹریبیوٹرز ایسی فلموں کو متنازع سمجھتے ہیں۔ کئی سینما گھروں کو دھمکیاں ملیں، اشتہارات مسترد کیے گئے، مگر اس کے باوجود فلمی صنعت میں ایک تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔
یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں میں بھی فلسطینی فلموں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ کینز میں فاطمہ حسونہ، جو اسرائیلی حملے میں اہلخانہ سمیت شہید ہوئیں، پر مبنی فلم "پٹ یور سول آن یور ہینڈ اینڈ واک” کو بڑی کمپنیوں نے خریدا۔
فلمی میلوں میں فلسطین کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے۔ وینس میں "نسل کشی بند کرو” کے بینر تلے ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکلے۔ ہالی ووڈ بھی اس لہر سے محفوظ نہیں رہا، جہاں اسرائیلی اداکارہ گال گڈوٹ کے خلاف مسلسل مظاہرے اور بائیکاٹ جاری ہیں۔
ہدایتکار کاوثر بن ہانیہ کہتی ہیں:
"میں سیاستدان نہیں، میرے پاس صرف ایک ہتھیار ہے — سینما۔ ہند رجاب کی کہانی سنانا میرا فرض تھا تاکہ میں خاموش تماشائی نہ رہوں۔”
فلسطینی فلمیں اب صرف ایک حاشیے کا موضوع نہیں رہیں، بلکہ عالمی سینما کی تاریخ میں مرکزی مقام حاصل کر رہی ہیں۔ یہ کامیابی نازک، متنازع اور سخت مخالفتوں کے باوجود، اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ فلسطینی زندگیاں، جدوجہد اور قربانیاں صرف خبروں کا حصہ نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ بھی ہیں۔

