منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیامریکا نے پاکستان کے معدنی وسائل سے استفادہ شروع کر دیا

امریکا نے پاکستان کے معدنی وسائل سے استفادہ شروع کر دیا
ا

اسلام آباد(مشرق نامہ): پاکستان اور امریکا نے دو اہم مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے ہیں جن کا مقصد ریئر ارتھ ایلیمنٹس (REEs) سمیت اہم معدنیات کی تلاش، ترقی اور پراسیسنگ ہے۔ یہ پیش رفت پاک-امریکا تعلقات میں حالیہ بہتری کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

یہ معاہدے امریکی کمپنی یواس اسٹریٹجک میٹلز (USSM) اور پاکستان کی سب سے بڑی معدنی کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کے درمیان جبکہ دوسرا معاہدہ موٹا-انجل گروپ (MEG) اور نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLCP) کے درمیان ہوا۔

اس وقت امریکی کمپنیوں کے وفود پاکستان کے دورے پر ہیں تاکہ معدنیات کی کان کنی کو وسعت دینے، وسائل کی ویلیو ایڈیشن اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے مواقع کا جائزہ لے سکیں۔ وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر پیٹرولیم اور وزیر تجارت بھی شریک تھے۔

امریکی وفد نے پاکستان میں ویلیو ایڈیشن سہولیات قائم کرنے، معدنی پراسیسنگ کی صلاحیت بڑھانے اور بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا۔

معاہدوں پر دستخط وزیراعظم ہاؤس میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر اور قائم مقام ڈپٹی مشن چیف زیک ہارکن رائیڈر کی موجودگی میں کیے گئے۔ امریکی سفارتخانے کے مطابق، امریکی کمپنی USSM، جو سینٹ لوئیس، مسوری میں قائم ہے، اہم معدنیات کی پیداوار اور ری سائیکلنگ میں مہارت رکھتی ہے جنہیں امریکی محکمہ توانائی ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اور انرجی پروڈکشن کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں پاکستان سے دستیاب معدنیات، جن میں اینٹمونی، کاپر، سونا، ٹنگسٹن اور ریئر ارتھ ایلیمنٹس شامل ہیں، امریکا کو برآمد کی جائیں گی۔ اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ آئندہ مرحلے میں پاکستان میں ایک جدید پولی-میٹلک ریفائنری قائم کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ امریکی منڈی کی بڑھتی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

یہ تعاون پاکستان کے معدنی وسائل کے مکمل استعمال، فوری برآمدات اور طویل مدتی شراکت داری کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔ اس میں پائیداری، منافع اور ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’ٹوکینائزیشن‘‘ جیسے جدید فنانسنگ ماڈلز کے ذریعے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کے معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

موٹا-انجل گروپ اور این ایل سی پی کے درمیان ہونے والا معاہدہ طویل مدتی شراکت داری پر مبنی ہے جس کے تحت عالمی مہارت کو مقامی سطح پر روزگار، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور پائیدار ترقی کے ذریعے فائدہ مند بنایا جائے گا۔

امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے ان معاہدوں کو پاک-امریکا تعلقات کی مضبوطی کی ایک اور مثال قرار دیا اور کہا کہ یہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور امریکا برسوں کی بداعتمادی کے بعد تعلقات کو دوبارہ متوازن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف ڈبلیو او — جو فوج کا ایک ذیلی ادارہ ہے — کی شمولیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ معدنی وسائل کے فروغ میں فوج کا مرکزی کردار ہے۔

یہ معاہدے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جون میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئے ہیں، جسے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی بحالی میں ایک بڑی پیش رفت سمجھا گیا تھا۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری اور سلامتی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، جن میں اہم معدنیات کو اولین ترجیح دی گئی تھی۔

سرکاری حکام کے مطابق، ان ایم او یوز پر دستخط امریکا کی مزید کمپنیوں کے پاکستان میں کان کنی اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے راستے کھول سکتے ہیں، جس کی ملک کو معیشت کے استحکام کے لیے سخت ضرورت ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین