منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستانپاکستانی دنیا میں اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے بڑے صارفین میں شامل

پاکستانی دنیا میں اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے بڑے صارفین میں شامل
پ

کراچی (مشرق نامہ): پاکستان دنیا کے اُن پانچ بڑے ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں مصنوعی ذہانت (AI) کے آلات اور ایپلیکیشنز کا استعمال سب سے زیادہ کیا جا رہا ہے۔ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان نے روزگار اور معیشت کو نئی شکل دینا شروع کر دی ہے، جس کے باعث ماہرین اخلاقی رہنما اصولوں اور عملی پالیسی فریم ورک بنانے پر زور دے رہے ہیں۔

شوارٹز ریزمین انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی اینڈ سوسائٹی کی ایک تحقیق کے مطابق 21 ممالک کے سروے میں پاکستان دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر رہا ہے جہاں لوگ سب سے زیادہ اے آئی ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔

تحقیق کے مطابق پاکستانی عوام مجموعی طور پر اے آئی کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، لیکن اس کے تیز رفتار استعمال نے روزگار کے مواقع اور اخلاقی اصولوں و پالیسی اقدامات کے بارے میں خدشات بھی پیدا کیے ہیں۔

سروے میں بھارت سب سے آگے رہا جہاں 43 فیصد لوگوں نے اے آئی کو ’’انتہائی مثبت‘‘ قرار دیا، اس کے بعد کینیا (29 فیصد)، برازیل (27 فیصد) اور پاکستان (26 فیصد) کا نمبر آیا۔ پاکستانی جواب دہندگان میں 39 فیصد نے اسے ’’کافی مثبت‘‘، 22 فیصد نے غیر جانبدار، 8 فیصد نے ’’کافی منفی‘‘ اور 5 فیصد نے ’’انتہائی منفی‘‘ قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اے آئی کے بارے میں امیدیں زیادہ ہیں کیونکہ اسے روزگار پیدا کرنے، معیشت کو بڑھانے اور عوامی خدمات بہتر بنانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، صنعتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اگرچہ مؤثر ہے مگر آئی ٹی اور سروسز سیکٹر میں نوکریاں ختم کر رہی ہے اور ملازمین کو اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار کی وجہ سے تنقیدی سوچ سے محروم کر رہی ہے۔

اس کے برعکس، امریکہ، فرانس اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اے آئی کے بارے میں منفی رائے کی شرح زیادہ ہے۔ مثلاً امریکہ میں 34 فیصد افراد نے اے آئی کے بارے میں ’’کافی‘‘ یا ’’انتہائی منفی‘‘ رائے دی۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ سیاسی تقسیم، غلط معلومات پھیلنے کے خدشات اور سفید پوش نوکریوں کے ختم ہونے کا خوف ہو سکتا ہے۔

پاکستان نہ صرف اے آئی ٹولز استعمال کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے بلکہ اس نے اپنی مقامی زبانوں میں دستیاب ایک مقامی چیٹ بوٹ "ذہانت اے آئی” بھی تیار کیا ہے۔ پاکستان کی اے آئی میں بڑھتی دلچسپی کا اظہار یونیسکو کے حالیہ ڈائیلاگ "AI for Humanity: Ethical and Inclusive AI in Pakistan” میں بھی ہوا، جس میں نجی شعبے، اکیڈیمیا، سول سوسائٹی اور ٹیکنالوجی اداروں کے 25 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی اور قومی اے آئی پالیسی کے تحت جدت کے ماحولیاتی نظام پر بات کی۔

ذہانت اے آئی کی شریک بانی مہوش سلمان علی نے زور دیا کہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ’’اخلاقی اور شمولیتی اے آئی‘‘ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو اے آئی کی مہارتیں دینا ضروری ہے ورنہ 22 کروڑ سے زائد آبادی ایک غیر استعمال شدہ اثاثہ ہی رہے گی۔

سی آئی او گلوبل 200 سمٹ میں انٹیگریشن ایکسپرٹس کے سی ای او عمیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ اے آئی مؤثر ہے، لیکن اس کے غلط استعمال سے اداروں کی ساکھ اور ملازمین کی تنقیدی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر ادارے میں ’’اے آئی چیمپیئنز‘‘ ہونے چاہئیں اور مضبوط پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جائے۔

146 ملین سے زائد براڈبینڈ صارفین کے ساتھ پاکستان میں اے آئی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ تاہم، پی@شہ کے ایک سروے میں سامنے آیا کہ کمپنیاں بعض شعبوں میں بھرتیاں کم کر رہی ہیں کیونکہ اے آئی انسانی کردار کی جگہ لے رہا ہے، جس سے روزگار، مہارتوں اور معاشرتی اثرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین