مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) دولتِ مشترکہ انسانی حقوق انیشی ایٹو (CHRI) کی ایک رپورٹ کے مطابق، دولتِ مشترکہ کے کئی رکن ممالک میں قومی قوانین صحافتی آزادی کو سختی سے محدود کرتے ہیں اور اظہارِ رائے کے حق پر ناجائز پابندیاں عائد کرتے ہیں۔
ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ CHRI، دولتِ مشترکہ صحافیوں کی انجمن (CJA) اور دولتِ مشترکہ وکلاء ایسوسی ایشن (CLA) نے رکن ممالک سے فوری طور پر ان قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے جو ’’جائز عوامی اظہار کو مجرمانہ قرار دیتے ہیں‘‘ اور میڈیا ورکرز و نگران اداروں کو تشدد اور دھمکیوں سے بچانے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔
رپورٹ "کون بیانیے کو کنٹرول کرتا ہے؟ دولتِ مشترکہ میں اظہارِ رائے پر قانونی پابندیاں” میں کہا گیا ہے کہ ہتکِ عزت، بغاوت، اور قومی سلامتی سے متعلق قوانین کے تحت تقاریر کو مجرمانہ قرار دینے کی شقیں من مانی طور پر استعمال کی جاتی ہیں تاکہ صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور حکومت کے ناقدین کو خوفزدہ اور خاموش کرایا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق، ایک اہم ہدف 41 دولتِ مشترکہ ممالک میں ہتکِ عزت کے قوانین کو غیرمجرمانہ بنانا ہونا چاہیے، جہاں کئی جگہوں پر طویل قید کی سزائیں دی جاتی ہیں۔
یہ رپورٹ 30 سے زائد سینئر صحافیوں اور 35 وکلاء کے بیانات اور افریقہ، ایشیا، امریکا، کیریبین، یورپ اور پیسفک خطوں کے قانونی ڈھانچوں کے تجزیے پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دولتِ مشترکہ کی سابقہ بے عملی نے بعض رکن ممالک میں اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کو سنگین اور دیرپا مسائل سے دوچار کیا ہے۔
مزید کہا گیا کہ دولتِ مشترکہ سیکرٹریٹ اور رکن ممالک کو این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ ’’اظہارِ رائے اور حکمرانی میں میڈیا کے کردار سے متعلق 11 نکاتی دولتِ مشترکہ اصولوں‘‘ پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے، جنہیں حالیہ سربراہی اجلاس میں ساموآ میں منظور کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 2006 سے 2023 کے دوران 19 دولتِ مشترکہ ممالک میں 213 صحافی قتل ہوئے، اور ان میں سے 96 فیصد کیسز میں مجرموں کو سزا نہیں ملی۔ مزید یہ کہ 41 ممالک میں ہتکِ عزت، 48 میں بغاوت، اور 37 میں توہینِ مذہب سے متعلق تعزیری قوانین اب بھی موجود ہیں۔
رپورٹ میں دولتِ مشترکہ وزارتی ایکشن گروپ (CMAG) پر زور دیا گیا کہ وہ سول سوسائٹی اور میڈیا پر عائد نظامی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، اسے مزید مضبوط بنایا جائے اور ’’اظہارِ رائے کے لیے دولتِ مشترکہ کے خصوصی ایلچی‘‘ کا تقرر کیا جائے۔
سفارشات میں کہا گیا ہے:
- قومی قانونی ڈھانچوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار سے ہم آہنگ کیا جائے۔
- بین الاقوامی معاہدوں خصوصاً انٹرنیشنل کووننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس (ICCPR) کی توثیق اور نفاذ کیا جائے۔
- حقِ اطلاعات کے مضبوط قوانین بنائے جائیں۔
- عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا جائے، شفاف عدالتی عمل اور انصاف تک رسائی کو قانون میں واضح کر کے اس پر عمل کیا جائے۔
- میڈیا کی آزادی اور کثرتیت کو فروغ دیا جائے، انٹرنیٹ یا کمیونیکیشن شٹ ڈاؤن سے گریز کیا جائے۔
- صحافیوں اور سول سوسائٹی کو نگرانی اور خوف سے بچانے کے لیے قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
- خواتین صحافیوں سمیت کمزور گروہوں کو خصوصی تحفظ دیا جائے۔
- CMAG اور سیکرٹریٹ کو مزید فعال اور باوسائل بنایا جائے۔
CHRI ڈائریکٹر سنیہ اورورا نے کہا:
“بہت سے دولتِ مشترکہ ممالک اب بھی نوآبادیاتی دور کے قوانین نافذ کر رہے ہیں جو اظہارِ رائے کو جرم اور اختلاف کو خاموش کرتے ہیں، جو ان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”
CJA کے ولیم ہارسلے نے کہا:
“گزشتہ 20 برسوں میں دولتِ مشترکہ کے ممالک میں 200 سے زائد صحافیوں کے قاتلوں کو سزا نہ دینا شرمناک ہے۔ یہ ثقافتِ بے سزائی ختم ہونی چاہیے۔ سچ بولنے والوں کو خطرات اور انتقامی کارروائیوں سے بچانے کے لیے دولتِ مشترکہ کی سنجیدہ شمولیت ادارے کو ایک نیا اور اہم مقصد دے سکتی ہے۔”

