منگل, فروری 17, 2026
ہومنقطہ نظرفیودور لوکیانوف: روسیہ اور چین ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھ...

فیودور لوکیانوف: روسیہ اور چین ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں مغرب اختیاری حیثیت اختیار کر گیا ہے
ف

ایس سی او سربراہی اجلاس نے ظاہر کر دیا کہ دنیا کا محور مغرب سے ہٹ رہا ہے

تحریر: فیودور لوکیانوف

تاریخی سالگرہ کے مواقع اکثر سفارت کاری کو تماشائی بنا دیتے ہیں۔ اس ہفتے تیانجن میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس بھی اسی روایت کا حصہ تھا، جسے جان بوجھ کر چین کی دوسری جنگِ عظیم میں فتح کی 80 ویں سالگرہ کے شاندار فوجی پریڈ سے قبل منعقد کیا گیا۔ میزبان بیجنگ نے یقینی بنایا کہ یہ علامتی پس منظر اپنا اثر دکھائے۔ اس موقع کے تعین نے واشنگٹن کے ساتھ تضاد کو بھی نمایاں کر دیا، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ اگلے سال امریکہ کے 250 ویں یومِ آزادی کے موقع پر شاندار پریڈ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جبکہ گزشتہ موسمِ گرما میں ان کی کم زور کوشش خاطر خواہ کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

ایس سی او اجلاس کی اہمیت

ایس سی او کے لیے، تیانجن کا اجلاس گزشتہ برس کازان میں ہونے والے برِکس سربراہی اجلاس کے ہم پلہ اہمیت کا حامل تھا۔ اگرچہ معاہدوں پر دستخط ہوئے، مگر حسبِ روایت، اعلانات سے عمل درآمد تک کا سفر طویل ہوگا۔ تاہم سب سے زیادہ اہمیت ایک معیار قائم کرنے کی تھی۔ بین الاقوامی سیاست میں محض اکٹھا ہونا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ان اجلاسوں کے نتائج۔

مغرب کے دائرے سے باہر

اب بھی بہت سے لوگ روایتاً کسی اجلاس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگاتے ہیں کہ آیا مغربی طاقتیں وہاں موجود ہیں یا نہیں۔ دہائیوں تک عالمی سیاست مشرق-مغرب کی سرد جنگی کشمکش اور پھر امریکا و اس کے اتحادیوں کی یکطرفہ برتری کے تحت تشکیل پاتی رہی۔ جی-7 (کبھی جی-8) کی رکنیت کو عالمی وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ جی-20، جسے زیادہ متنوع دنیا کی عکاسی کے لیے بنایا گیا تھا، اس کا ایجنڈا بھی مغربی اثر و رسوخ کے تابع رہا۔ ایسے اجلاس جن میں مغرب موجود نہ ہو، انہیں طویل عرصے تک محدود اور علامتی سمجھا جاتا رہا۔

مگر اب یہ تاثر متروک ہو چکا ہے۔ اصل موڑ گزشتہ برس آیا — پہلے برِکس اجلاس کے موقع پر، اور اب ایس سی او کے ذریعے۔ دونوں پلیٹ فارمز کی ساخت بالکل مختلف ہے، لیکن ان میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ کئی ممالک ان تنظیموں میں شمولیت یا کم از کم شرکت کے خواہشمند ہیں۔ محض ان اجلاسوں میں شرکت اب ایک اعزاز بن چکی ہے، اور ان کے دوران ہونے والی پسِ پردہ سفارت کاری ایسے مواقع فراہم کرتی ہے جو عام حالات میں میسر نہیں آتے۔

تنہائی سے مرکزیت تک

یہ تبدیلی صرف روس سے متعلق نہیں ہے۔ یوکرین میں تنازع کے بعد ماسکو کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مغربی کوشش الٹی پڑ گئی۔ روس کو الگ تھلگ کرنے کے بجائے، اس نے وہ عمل تیز کر دیا ہے جسے اب "عالمی اکثریت” کہا جا رہا ہے۔ بہت سے ممالک کسی دوسرے کے سیاسی منطق کے تابع رہنا نہیں چاہتے۔ وہ اپنے مفادات اور ترجیحات کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں۔

انکار سے کشش تک

وہ ڈھانچے، جنہیں کبھی مغرب مصنوعی اور حسد پر مبنی نقلیں کہہ کر تمسخر کا نشانہ بناتا تھا — جیسے برِکس اور ایس سی او — اب ناگزیر بنتے جا رہے ہیں۔ اب یہ صرف مغربی غلبے کا نظریاتی توڑ نہیں بلکہ عملی پلیٹ فارم بھی ہیں۔ اسی پس منظر میں برِکس کے نیو ڈیولپمنٹ بینک کو وسعت دینے اور ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک کے قیام کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ ادارے بلاشبہ فوری طور پر آئی ایم ایف یا عالمی بینک کے مقابل نہیں ہوں گے، مگر سمت واضح ہے: ایسے متبادل بنانا جو مغربی نگران اداروں کو بائی پاس کریں۔

مغرب کے لیے یہ تبدیلی ہضم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ واشنگٹن اور برسلز کے لیے، کوئی بھی ایسا ادارہ جو ان کے کنٹرول سے باہر ہو، فوراً خطرہ بن جاتا ہے اور "جمہوریت مخالف سازش” قرار پاتا ہے۔ حقیقت مگر اس کے برعکس ہے۔ اصل میں مغرب خود کو سمیٹ رہا ہے، دفاعی پوزیشن میں جا رہا ہے — بعض اوقات جارحانہ انداز میں — اور اس عمل میں دنیا کے بڑے حصے سے خود کو کاٹ رہا ہے۔

ماسکو میں رائج فارمولہ — "مغرب کے خلاف نہیں، بلکہ اس کے بغیر” — اب حقیقت بنتا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا کردار

اس تبدیلی میں ایک اہم محرک ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست اور سخت گیر سیاسی حکمتِ عملی بھی ہے۔ ان کا پیغام سادہ ہے: قیمت دو، ورنہ دباؤ سہو۔ اتحادی ممالک بڑی حد تک اس دباؤ کے آگے جھک گئے ہیں، جس نے واشنگٹن کو یقین دلایا ہے کہ یہ حکمتِ عملی کارگر ہے۔ مگر جن ممالک کے امریکا کے ساتھ کوئی سلامتی معاہدے نہیں ہیں، ان کا ردِعمل مختلف ہے۔ وہ محض پیسے کے بہاؤ کے لیے امریکا کے کلائنٹ کے طور پر برتاؤ برداشت کرنے کو تیار نہیں۔

اسی لیے واشنگٹن اس وقت حیران رہ گیا جب اتنے زیادہ ممالک برِکس+ یا ایس سی او+ کے لیے صف بستہ نظر آئے۔ یہ ممالک لازمی طور پر روس یا چین کے غیر مشروط حامی نہیں ہیں؛ وہ محض یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ دوسروں کے بنائے گئے اصولوں کے تحت جینا نہیں چاہتے۔

روس کی حیثیت

اس پس منظر میں روس نہ صرف غیر اہم نہیں ہوا بلکہ ایک مرکزی ستون کے طور پر ابھرا ہے۔ مغرب کی الگ تھلگ کرنے کی کوششوں نے دراصل ماسکو کے اس کردار کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ غیر مغربی ممالک کس طرح اس کے گرد منظم ہو سکتے ہیں۔ بہت سے ممالک کے لیے روس اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی سرپرستی سے ہٹ کر بھی راستے موجود ہیں۔

ایس سی او اجلاس کے فوراً بعد ولادی ووستوک میں مشرقی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ولادی میر پوتین نے روس کی "دو سروں والے عقاب” کی حکمتِ عملی پر زور دیا: یہ ملک دونوں سمتوں میں دیکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس نے امریکا یا باقی یورپ کے دروازے بند نہیں کیے۔ ان کے مطابق، اگر امریکی حکومت اجازت دے تو امریکی کاروبار مشترکہ منصوبوں سے بے پناہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اسی وقت، ماسکو چین، بھارت اور وسیع تر عالمی جنوب کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ بیجنگ کے ساتھ توانائی کے معاہدے اور ویزا فری سفر جیسے نئے اقدامات اس راستے میں عملی پیش رفت ہیں۔

علامتوں کی اہمیت

علامتی اشارے بھی کم اہم نہیں ہیں۔ ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے ایک "عالمی حکمرانی کے اقدام” کا آغاز کیا، جس کی پوتین نے بھرپور حمایت کی۔ یہ کسی مغرب مخالف سازش کا حصہ نہیں بلکہ زیادہ متوازن عالمی نظام کی جستجو کا اظہار ہے۔

عبوری دنیا

ابھرنے والا عالمی منظرنامہ کوئی سخت گیر بلاک نہیں، نہ ہی یہ ایک نئی سرد جنگی لکیر ہے، بلکہ یہ زیادہ ڈھیلا اور متنوع ہے۔ بین الاقوامی سیاست مغرب مرکزیت سے ہٹ کر ایک کثیر قطبی ڈھانچے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ایس سی او سربراہی اجلاس کو اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا، کیونکہ یہ ایک بڑے عالمی از سرِ نو تشکیل کے عمل کا حصہ ہے۔

دنیا پیچیدہ اور یہ عمل افراتفری کا شکار ہے، مگر سمت واضح ہے۔ غیر مغربی ممالک اپنے ایجنڈے طے کرنے، ادارے قائم کرنے اور مشترکہ طور پر آگے بڑھنے کے حق کا دعویٰ کر رہے ہیں — اور وہ بھی بغیر اجازت نامے کے۔ روس کو الگ تھلگ کرنے کی مغربی کوشش نے دراصل اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔

مغرب شاید اب بھی یہی سمجھتا ہے کہ اس کے بغیر کچھ اہم نہیں ہوتا۔ لیکن تیانجن میں، جیسا کہ اس سے پہلے کازان میں، پیغام بالکل واضح تھا: دنیا کا ایک بڑا حصہ اب آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین